اسلام آباد : پیپلزپارٹی اور حکومت میں بجٹ پر ڈیڈ لاک کی وجوہات سامنے آگئیں ، حکومت سے بجٹ کا تفصیلی مسودہ متعدد بار مانگنے پر بھی فراہم نہ کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی بجٹ کی تیاریوں کے آخری مراحل میں حکومت اور اس کی اہم اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے درمیان معاملات سنگین رخ اختیار کر گئے اور دونوں کے مابین ڈیڈ لاک کی اصل وجوہات سامنے آ گئی۔
پیپلز پارٹی ذرائع کے نے بتایا کہ حکومت بجٹ سے متعلق طے شدہ سیاسی معاہدے کے تحت پی پی پی کو بجٹ کی تفصیلی دستاویزات اور مسودہ فراہم کرنے کی پابند ہے، تاہم متعدد بار مانگے جانے کے باوجود حکومت نے تاحال تفصیلی مسودہ فراہم نہیں کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت وفاقی ترقیاتی پروگرام اور نئے ٹیکسز کی تفصیلات کو مکمل طور پر ظاہر نہیں کر رہی۔ حکومت بجٹ میں کون سے نئے ٹیکس عائد کرنے جا رہی ہے اور پرانے ٹیکسز کی شرح میں کتنا اضافہ کیا جا رہا ہے، اس حوالے سے حقائق اور پٹرولیم لیوی کی تفصیلات سے پیپلز پارٹی کو تاحال اندھیرے میں رکھا گیا ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ پیپلز پارٹی کو بجٹ میں شامل ترقیاتی اسکیموں پر بھی شدید تحفظات ہیں، سیاسی معاہدے کے تحت چاروں صوبوں سے پیپلز پارٹی کے تجویز کردہ ترقیاتی منصوبوں کو وفاقی ترقیاتی پروگرام کا حصہ بننا تھا، لیکن حکومت نے پنجاب اور خیبر پختونخوا (کے پی) سمیت کسی بھی صوبے سے پی پی پی کے منصوبوں کو پی ایس ڈی پی میں شامل نہیں کیا۔
پیپلز پارٹی نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ حکومت سے بجٹ سے متعلق طے پانے والے معاہدے پر سو فیصد عملدرآمد چاہتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے بجٹ معاہدے پر عمل نہ کیا تو پیپلز پارٹی بجٹ سیشن کے حوالے سے اپنا اگلا سخت لائحہ عمل طے کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔


