مُردوں کاجزیرہ اور اس کی حقیقت -
The news is by your side.

Advertisement

مُردوں کاجزیرہ اور اس کی حقیقت

برطانیہ کےشمالی ساحل کینٹ پرواقع ’مُردوں کےجزیرے‘ کےحوالےسےحیرت انگیز معلومات منظرِعام پر آئیں ہیں جوآج سے پہلےشاید لوگوں کے علم میں نہ تھیں۔

برطانیہ میں واقع ’مُردوں کےجزیرہ‘صدیوں سے پراسرار رہاہےاور اس سے متعلق کئی دہائیوں تک ڈراؤنی کہانیاں اورافواہیں گردش کرتی رہی ہیں۔

1

برطانوی دارالحکومت سے74کلومیٹرفاصلے پرواقع اس جزیرےپر200 سال قبل ان قیدیوں کولا کرتابوت میں دفنایاجاتاتھا‘جوکہ جان لیوا بیماریوں کا شکار ہوا کرتے تھے۔

2

کینٹ میں واقع اس جزیرے کے اطراف میں بڑھتی ہوئی سمندری سطح اور ساحلی کٹاؤ کی وجہ سے مُردوں کا یہ جزیرہ اوراس پرموجود ان لوگوں کی باقیات اور ان کی آخری آرام گاہ منظرِعام پرآئی ہیں۔

3

مُردوں کے جزیرے کے حوالے سے لوگوں میں مختلف افواہیں ہمیشہ گردش کرتی رہی ہیں جن میں سے بعض افواہوں کےمطابق اس جزیرے پرایک ایسی دیو ہیکل مخلوق آباد ہے جو کہ انسانوں کو پکڑ کران کا دماغ کھالیاکرتاتھااورپھران کے ڈھانچے کو پھینک دیتاتھا۔

4

دو سوسال سے زائد عرصے تک خوف کی علامت سمجھے جانے والا یہ جزیرہ برطانوی دارالحکومت لندن سے 74کلو میٹر کےفاصلے پرشیپی جزیرےکےسامنے واقع ہے۔

5

آثار قدیمہ کے ماہرڈاکٹر پال ولکنسن نے مُردوں کے جزیرے کے نام سے مشہور اس جگہ کا دورہ کیا اور اس بات کی تصدیق کی اس جزیرے سے جو باقیات اور ہڈیاں ملی ہیں وہ انسانوں کی ہی ہیںاور کسی حیوان یا دیو ہیکل کی موجودگی کے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں۔

6

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں