The news is by your side.

Advertisement

’اداس نسلیں‘ کے خالق عبداللہ حسین کی برسی

عالمی شہرت یافتہ ادیب عبداللہ حسین 4 جولائی 2015ء کو لاہور میں‌ وفات پاگئے تھے۔ 84 سالہ عبداللہ حسین خون کے کینسر میں مبتلا تھے۔ انھوں نے باگھ، فریب، نشیب اور نادار لوگ جیسے ناول لکھے جو بہت مقبول ہوئے، لیکن پاکستان ہی نہیں‌ دنیا بھر میں‌ ان کی وجہِ شہرت ان کا اوّلین ناول ’اداس نسلیں‘ بنا۔

عبداللہ حسین کا یہ ناول برصغیر کی سماجی اور سیاسی تاریخ کا احاطہ کرتا ہے جسے پاکستان ہی نہیں‌ پڑوسی ملک بھارت میں بھی اردو داں طبقے نے پسند کیا اور اس کتاب کو بہت پذیرائی ملی۔

عبد اللہ حسین 14 اگست 1931ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمد خان تھا۔ عبد اللہ حسین کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی ہوئی۔ انھوں نے پرائمری کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد گجرات کے اسلامیہ ہائی اسکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور 1952ء میں بی ایس سی کیا۔ ایک سیمنٹ فیکٹری میں‌ ملازمت کے دوران لکھنے لکھانے کا سلسلہ شروع کیا۔ ان کی ایک کہانی ‘‘ندی’’ کے نام سے ادبی رسالے سویرا میں چھپی جس پر انھیں‌ بہت سراہا گیا۔ چند مزید کہانیاں شایع ہوئیں اور عبداللہ حسین ادبی حلقوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کام یاب ہوگئے، جس کے بعد انھوں نے اپنا پہلا ناول شایع کروایا جسے بے حد پسند کیا گیا۔

عبداللہ حسین کو حکومتِ پاکستان کی جانب 2012ء میں ادبی ایوارڈ ’ کمالِ فن‘سے نوازا گیا جب کہ ’اداس نسلیں‘ وہ ناول تھا جس پر انھوں نے آدم جی ایوارڈ اپنے نام کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں