The news is by your side.

Advertisement

عبدالسّلام ندوی: انشا و ادب میں ممتاز ایک اسلامی مفکّر اور عالم فاضل شخصیت

ان کی طبیعت شاعرانہ اور تخیل پرست تھی، ہلکے پھلکے مضامین کو وہ ادبی حسن و لطافت سے پورا کر دیتے تھے، قلم اتنا پختہ اور منجھا ہوا تھا کہ قلم برداشتہ لکھتے تھے۔

یہ عبدالسّلام ندوی کا تذکرہ ہے جو دارُ العلوم ندوۃُ العلما، لکھنؤ کے فارغ التحصیل اور اوّلین فاضل شخصیات میں سے ایک تھے۔

ہندوستان میں انشا و ادب میں ممتاز اس مصنّف، شاعر اور مؤرخ کا شمار اپنے وقت کی بلند پایہ علمی و ادبی شخصیت اور اسلامی مفکّر علاّمہ شبلی نعمانی کے چہیتے شاگردوں میں ہوتا تھا۔

عبد السلام ندوی پہلے مصنّف ہیں جنھوں نے باقاعدہ تصنیف کا کام سیکھا، انھوں نے طلبائے ندوہ میں سب سے پہلے مضمون نویسی پر انعام پایا، سب سے پہلے اپنے استاد علامہ شبلی کا طرزِ تحریر اختیار کیا اور سب سے زیادہ کام یاب رہے۔

اس نادرِ روزگار شخصیت کا آبائی علاقہ اعظم گڑھ کا موضع علاءُ الدّین پٹی تھا جہاں 16 فروری 1883ء کو شیخ دین محمد کے گھر آنکھ کھولی۔ والد فارسی، ہندی اور قدیم ہندوانہ طریقہ حساب کے بڑے ماہر تھے، اسلامیات اور دینیات کے بھی عالم تھے، شرحِ جامی تک عربی تعلیم حاصل کی تھی۔ ان کا تعلق متوسط درجے کے زمین دار، کاشت کار اور تاجر خاندان سے تھا۔

عبدُ السّلام ندوی نے ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب میں حاصل کی، اس کے بعد عربی کی تعلیم کے لیے کان پور، آگرہ اور غازی پور کا سفر کیا۔ اور 1906ء میں دارُ العلوم ندوۃُ العلما میں درجہ پنجم میں داخلہ لے لیا۔ 1910ء میں تعلیم سے فراغت کے بعد وہیں عربی ادب میں استاد مقرر ہو گئے۔

عبد السلام ندوی کو شعر وادب کا ذوق اور لکھنے پڑھنے کا شوق بچپن سے تھا۔ دارُ العلوم میں علّامہ شبلی نعمانی نے ان کی اس صلاحیت کو بھانپ لیا تھا اور تصنیف و تالیف کے حوالے سے ان کی بہترین تربیت کی تھی۔ ان کا پہلا مضمون اسی زمانے میں علّامہ شبلی کی نظر سے گزرا اور انھوں نے اسے “الندوی” رسالہ میں تعریفی نوٹ کے ساتھ شائع کردیا۔

یہ عبدالسّلام ندوی کی بڑی حوصلہ افزائی تھی اور شبلی جیسے استاد اور عالم فاضل کی تعریف اور توجہ ان کے نزدیک بڑی عزّت اور انعام کی بات تھی۔ یوں ان کا تصنیف و تالیف میں شوق بڑھا۔ بعد کو “الندوہ” کے معاون مدیر اور پھر مدیر بنائے گئے۔ علّامہ شبلی نے جب سیرتُ النّبی کی تالیف کا کام شروع کیا تو مولانا عبد السّلام کو اپنا معاون بنایا تھا۔

1912ء میں وہ مولانا ابو الکلام آزاد کے ساتھ “الہلال” کلکتہ سے وابستہ ہو گئے اور ڈیڑھ دو سال تک الہلال میں کام کیا۔ 1914ء میں الہلال کی بندش اور اسی سن میں علامہ شبلی کی وفات کے بعد انھوں‌ نے اپنے مرحوم استاد کے خوابوں کی تکمیل کے لیے دارُ المصنّفین شبلی اکیڈمی جاکر وہاں سید سلیمان ندوی اور مسعود علی ندوی کے ساتھ اس کی تعمیر و ترقی میں حصّہ لیا۔ ان کا شمار اس کے مؤسسین اور بانیان میں ہوتا ہے۔

مولانا عبدُ السّلام کو کئی جہتوں کے سبب اس دور میں اہمیت حاصل رہی ہے اور ان کے کام کو لائقِ تحسین جانا گیا ہے۔

مولانا عبدُ السّلام ندوی نے مختلف موضوعات پر سیکڑوں مضامین لکھے جب کہ ان کی مستقل تصنیفات ایک درجن سے زائد ہیں جن میں اسوۂ صحابہ اور اسوۂ صحابیات 1922ء، حکمائے اسلام (دو جلدیں) 1956ء، اقبال کامل 1929ء، امام رازی 1953ء، اسلامی قانون فوجداری 1950ء، شعر العرب و دیگر شامل ہیں۔

ان کا انتقال 1955ء میں آج ہی کے دن ہوا تھا۔ عبدالسّلام ندوی اپنے استاد علّامہ شبلی مرحوم کے سرہانے مدفون ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں