The news is by your side.

Advertisement

پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد اور اداکار نذر

تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان کی فلم انڈسٹری نے 1948ء میں پہلی فلم تیری یاد کے نام سے شائقین کے لیے پیش کی تھی جس میں اداکار نذر نے بھی ایک مزاحیہ کردار ادا کیا تھا۔ وہ فلمی صنعت کے قیام کے ابتدائی دو عشروں تک مقبول ترین کامیڈین کی حیثیت سے مصروف رہے۔ آج اداکار نذر کی برسی ہے۔

اس فلمی اداکار نے اپنی جسمانی حرکات و سکنات اور فی البدیہہ جملوں کی ادائیگی سے مزاح پیدا کرکے شائقینِ سنیما کو محظوظ کیا۔ وہ تقسیم سے قبل لاہور میں بننے والی پنجابی فلم گُل بلوچ (1946) میں کام کرچکے تھے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انھوں نے ممبئی میں‌ فلم نیک دل سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا۔

نذر کے دور میں فلمی دنیا میں آصف جاہ، اے شاہ اور دلجیت مرزا جیسے بڑے بڑے کامیڈین بھی میدان میں تھے لیکن مقبولیت میں نذر سب سے آگے تھے۔ اداکار نذر کو 1964ء کی فلم انسپکٹر میں نغمہ کے مقابل ہیرو کے طور پر بھی کاسٹ کیا گیا تھا۔

اس فلمی اداکار کا پورا نام سید محمد نذر حسین شاہ تھا۔ انبالہ ان کا وطن تھا جہاں انھوں نے 1920ء میں آنکھ کھولی تھی۔ قیامِ پاکستان سے پہلے انھوں نے بمبئی میں بننے والی فلم نیک دل میں کام کیا تھا اور پاکستان میں تیری یاد میں مزاحیہ کردار ادا کرنے کے بعد وہ غلط فہمی، پھیرے، انوکھی داستان، ہماری بستی، جہاد، امانت، اکیلی، بھیگی پلکیں، شہری بابو، برکھا، سسی، دو آنسو، پاٹے خان جیسی فلموں میں‌ شائقین کے سامنے آئے۔ اداکار نے ڈیڑھ سو سے زائد فلموں میں کام کیا تھا جن میں 117 فلمیں اردو میں اور باقی پنجابی اور پشتو زبان میں بنائی گئی تھیں۔

اداکار نذر نے 20 جنوری 1992ء کو لاہور میں وفات پائی اور ماڈل ٹاؤن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں