The news is by your side.

آغا بابر کا تذکرہ جو اپنی سوانح عمری ادھوری چھوڑ گئے

آغا بابر اردو کے معروف افسانہ نگار اور صحافی تھے۔ ان کا ادبی سفر شاعری سے شروع ہوا، لیکن جلد ہی افسانہ نگاری کی طرف آگئے اور اردو ادب کو کئی خوب صورت کہانیاں دے کر 1998ء میں آج ہی کے دن دارِ فانی سے کوچ کیا۔

آغا بابر 31 مارچ 1919 کو بٹالہ، ضلع گورداس پور میں‌ پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام سجاد حسین تھا، لیکن جہانِ ادب میں‌ آغا بابر کے نام سے شہرت پائی۔ صحافت بھی آغا بابر کا معروف حوالہ ہے۔

تقسیم کے بعد پاکستان میں افسانہ نگاری کا سلسلہ رواں دواں رہا اور 1947ء کے بعد جو نام سامنے آئے ان میں آغا بابر بھی نمایاں ہیں۔ اس زمانے میں اردو افسانے میں دو واضح رجحانات نظر آئے جس میں ایک جانب افسانہ نگار فرد کی بے بسی اور مجبوری کو موضوع بناتا رہا اور دوسری طرف فطرت کے مطابق خواب و خیال کی رنگینیوں اور رعنائیوں اور فطری مسرتوں کو نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی۔ آغا بابر نے بھی انسانی رشتوں، تعلقات اور جنس کو موضوع بناتے ہوئے فرد کے جذبات کی عکاسی کی۔ ان کے افسانے انسان کے ظاہر و باطن کو سمجھنے کی کوشش ہیں۔

"باجی ولایت” ان کا ایک ناقابلِ فراموش افسانہ ہے جس کا موضوع جنس ہے۔ آغا بابر کے افسانوں کا موضوع عورت، جنسی الجھنیں اور عورت کے احساسات و جذبات ہیں۔ "بیوگی، مریض، روح کا بوجھ، چال چلن جیسے افسانے آغا بابر کے اسلوب کے ساتھ اپنی مؤثر پیش کاری کے سبب ان کی پہچان ہیں۔

آغا بابر گورنمنٹ کالج لاہور اور پنجاب یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے۔ وہ مشہور افسانہ نگار اور مؤرخ عاشق حسین بٹالوی اور ممتاز قانون دان اعجاز حسین بٹالوی کے بھائی تھے۔ آغا بابر نے فلموں کے لیے مکالمہ نویسی اور ڈرامے بھی لکھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ عسکری ادارے کے ایک جریدے مجاہد اور ہلال سے بحیثیت مدیر منسلک ہوگئے۔ آغا بابر ریٹائرمنٹ کے بعد امریکا چلے گئے تھے اور وفات کے بعد وہیں دفن ہوئے۔

آغا بابر کے افسانوی مجموعوں میں چاک گریباں، لبِ گویا، اڑن طشتریاں، پھول کی کوئی قیمت نہیں، حوا کی کہانی اور کہانی بولتی ہے شامل ہیں جب کہ ان کے ڈراموں کے تین مجموعے بڑا صاحب، سیز فائر اور گوارا ہو نیش عشق بھی شایع ہوئے۔

اردو کے اس نام ور افسانہ نگار نے اپنی سوانح عمری لکھنا شروع کی تھی، لیکن فرشتۂ اجل نے انھیں‌ اس کام کو مکمل کرنے مہلت نہیں دی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں