The news is by your side.

Advertisement

انمول گیتوں کے خالق اور فلمی کہانی نویس احمد راہی کی برسی

فلمی کہانی نویس اور شاعر احمد راہی نے 2002ء میں آج ہی کے دن ہمیشہ کے لیے اپنی آنکھیں موند لی تھیں۔ آج ان کا یومِ وفات ہے۔

احمد راہی کی پہچان پنجابی زبان میں بننے والی کام یاب فلمیں‌ ہیں جن کے وہ مصنّف بھی تھے اور کئی فلموں کے گیت نگار بھی۔ تاہم انھوں نے اردو زبان میں بھی شاعری کی اور غزلوں کے ساتھ ان کے فلمی گیت بھی مشہور ہوئے۔

13 نومبر 1923ء کو امرتسر کے ایک کشمیری گھرانے میں آنکھ کھولنے والے احمد راہی کا اصل نام غلام احمد تھا۔ تقسیم کے بعد لاہور آنے والے احمد راہی کا انتقال بھی اسی شہر میں ہوا۔ احمد راہی نے امرتسر میں ہی مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو، شاعر سیف الدین سیف، کہانی نگار اے حمید کی صحبت میں رہتے ہوئے ادب میں دل چسپی لینا شروع کردی تھی اور تقسیم کے بعد لاہور کے ادبی ماحول میں اپنی صلاحیتوں کو منوایا۔

بطور کہانی نویس ان کی یادگار فلموں میں مرزا جٹ، ہیر رانجھا، ناجو، گُڈو، اُچّا شملہ جٹ دا مشہور ہیں جب کہ شہری بابو، ماہی مُنڈا، یکے والی، چھومنتر، الہ دین کا بیٹا، مٹی دیاں مورتاں، باجی، سسی پنوں اور بازارِ حسن نامی فلموں میں ان کے تحریر کردہ گیت ہر خاص و عام میں‌ مقبول ہوئے۔ انھوں نے اردو فلموں کے لیے بھی منظر، مکالمے اور گانے لکھے جن میں ’یکے والی‘ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔

احمد راہی کا پنجابی کلام پر مشتمل مجموعہ ترنجن بہت مقبول ہوا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں