The news is by your side.

Advertisement

شاعرِ مشرق علّامہ محمد اقبال کی زندگی کے چند اوراق

حکیمُ الامت، شاعرِ مشرق ڈاکٹر علّامہ محمد اقبال کی شخصیت اور ان کی شاعری سے دنیا واقف ہے اور ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ علّامہ اقبال 21 اپریل 1938ء کو اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئے تھے۔ انھیں مصوّرِ پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔

علّامہ اقبال ایک شاعر ہی نہیں عظیم مفکر، مدبّر، قانون دان بھی تھے جس نے برصغیر کے مسلمانوں، خصوصاً نوجوانوں کی راہ نمائی کی اور انھیں ایک سمت میں آگے بڑھتے ہوئے منزل تک پہنچنے کا راستہ دکھایا۔

9 نومبر 1877ء کو شیخ نور محمد کے گھر آنکھ کھولنے والے محمد اقبال عہد شناس اور عہد ساز شاعر مشہور ہوئے۔ انھوں نے مشرق و مغرب کے سیاسی، تہذیبی، معاشرتی اور روحانی حالات کا گہرا مشاہدہ اور مطالعہ کیا اور پھر مشرق کو اس کی بدحالی اور خاص طور پر مسلمانانِ ہند کو ان کی کم زوریوں اور خامیوں پر خبردار کیا اور اپنی شاعری کے ذریعے ان کی اصلاح کرتے ہوئے علم و عمل کی جانب راغب کیا۔

اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمان نوجوان کو حیات و کائنات کو مسخر کرنے اور اسلاف کے فراموش کردہ کردار اور ورثے کو پانے اور اس کا احیا کرنے کی طرف متوجہ کیا۔

اقبال نے کم عمری میں ہی شاعری شروع کر دی تھی۔ 1890ء کے ایک طرحی مشاعرہ میں اقبال نے محض 17 سال کی عمر میں اپنے کلام سے اس وقت کے جیّد شعراء کو اپنی طرف متوجہ کرلیا تھا۔

اقبال کی شاعری میں مقصد کو اوّلیت حاصل ہے۔ وہ اپنے کلام سے اقوامِ مشرق پر چھائی کاہلی اور جمود کو توڑنا چاہتے تھے اور اس کے لیے وہ عشق، عقل، مذہب، زندگی اور فن کو اک مخصوص زاویہ سے دیکھتے تھے۔

علّامہ اقبال کا کلام دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا گیا اور ان کے کلام کے کئی مجموعے شایع ہوئے۔ ان کا یہ شعر دیکھیے جس میں انھوں نے ایک آفاقی پیغام دیا ہے:

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

Comments

یہ بھی پڑھیں