The news is by your side.

Advertisement

ممتاز ادیب، فکشن نگار اور نقّاد ڈاکٹر انیس ناگی کا تذکرہ جو تلخ گو مشہور تھے

اردو ادب میں ڈاکٹر انیس ناگی فکشن نگار، نقّاد اور شاعر کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ انھوں نے 2010ء میں آج ہی کے دن ہمیشہ کے لیے یہ دنیا چھوڑ دی تھی۔

’زوال‘ اور ’دیوار کے پیچھے‘ ان کے اہم ناول شمار کیے جاتے ہیں۔ 10 ستمبر 1939ء کو لاہور میں پیدا ہونے والے انیس ناگی کا خاندانی نام یعقوب علی تھا۔

انیس ناگی نے ناولوں کے علاوہ شعری اور تنقیدی مضامین کے مجموعے، شعری اور نثری تراجم یادگار چھوڑے۔

وہ ساٹھ کی دہائی میں ’نئی شاعری‘ کی تحریک کے نام سے سامنے آنے والے ان لوگوں میں شامل تھے جن کے لیے شاعری کا روایتی پیرایہ اور اظہار ناقابلِ قبول تھا۔ انھوں نے تجربات کیے اور اس تحریک میں ان کے ساتھ افتخارجالب، محمد سلیم الرحمان، عباس اطہر، زاہد ڈار و دیگر بھی شامل ہوگئے۔

ڈاکٹر انیس ناگی کو اپنے ہم عصروں میں اس لیے امتیاز حاصل ہے کہ وہ تخلیقی کام کے ساتھ ساتھ نظری اور فلسفیانہ اساس بھی فراہم کرتے رہے۔ انیس ناگی کا ایک اہم کام ان کے شعری تراجم ہیں۔

کہتے ہیں کہ وہ لگی لپٹی رکھنے کے عادی نہ تھے۔ انھوں نے جو سچ جانا اور جیسا درست سمجھا، اسے بیان کرنے میں کسی کی ناراضی اور تعلق کو نقصان پہنچنے کی پروا نہ کی۔ ان کے بارے میں‌ مشہور تھا کہ تلخ گوئی ان کا شیوہ ہے۔

انھیں لاہور میں اقبال ٹاؤن کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں