The news is by your side.

Advertisement

ریڈیو اور پاکستان ٹیلی ویژن کی معروف فن کار عرشِ منیر کی برسی

قیامِ پاکستان کے بعد یہاں ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر اپنے فن اور صلاحیتوں کی بدولت نام و مقام بنانے والوں میں عرشِ منیر بھی شامل ہیں‌ جو 1998ء میں آج ہی کے روز وفات پاگئی تھیں۔ آج ان کی برسی ہے۔

عرشِ منیر کا تعلق لکھنؤ سے تھا جہاں انھوں نے 1914ء میں‌ آنکھ کھولی۔ ان شادی شوکت تھانوی سے ہوئی جو ایک صحافی، ناول نگار، ڈراما نویس، شاعر بھی تھے۔ شوکت تھانوی نے یوں تو ادب کی ہر صنف میں طبع آزمائی کی، مگر ان کی اصل شہرت مزاح نگاری ہے۔ شوکت تھانوی آل انڈیا ریڈیو سے بھی وابستہ رہے جن کی تحریک اور ہمّت افزائی سے عرشِ منیر نے بھی آل انڈیا ریڈیو کے لیے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور صدا کار کے طور پر فنی سفر کا آغاز کیا۔

قیامِ پاکستان کے بعد یہاں ہجرت کی اور بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ عرشِ منیر نے ریڈیو پاکستان سے بطور اسٹاف آرٹسٹ وابستگی کے دوران کئی ڈرامے اور پروگرام کیے جو سامعین میں بہت مقبول ہوئے۔

پاکستان میں‌ ٹیلی ویژن نشریات کا آغاز ہوا تو انھیں متعدد ٹی وی ڈراموں میں اداکاری کرنے کا موقع ملا اور عرشِ منیر نے ناظرین سے اپنی اداکاری پر خوب داد وصول کی۔ پی ٹی وی کا مقبول ترین اور یادگار ڈراما شہزوری، باادب باملاحظہ ہوشیار، ریڈیو کا دھابے جی آئے تو بتانا اور متعدد ریڈیو پروگرام ان کی یاد دلاتے رہیں گے۔

حکومتِ پاکستان نے عرشِ منیز کو صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی عطا کیا تھا۔

انھیں کراچی میں‌ سخی حسن کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں