The news is by your side.

مشہور فلمی صحافی اور اداکار اسد جعفری کا یومِ وفات

پاکستان کے مشہور فلمی صحافی اور اداکار اسد جعفری 19 ستمبر 1995ء کو طویل علالت کے بعد وفات پاگئے۔ آج ان کی برسی ہے۔ فلم نگری میں بحیثیت اداکار انھیں زیادہ کام یابی نصیب نہیں ہوئی لیکن قلم کے ذریعے انھوں خوب نام کمایا اور ان کے کالم مقبول ہوئے۔

اسد جعفری 25 دسمبر 1934ء کو الٰہ آباد میں پیدا ہوئے۔ صحافت اور انگریزی میں ماسٹرز تک تعلیم حاصل کی۔ ضیا سرحدی کی فلم ’’آخری شب‘‘ ان کی پہلی فلم تھی۔ اس کے بعد انھوں نے متعدد فلموں میں کام کیا جن میں ہم سفر، اور بھی غم ہیں، نیلو فر، شکوہ، شرارت، اک تیرا سہارا، بیٹی، دیور بھابی، اک نگینہ، میرا گھر میری جنت، سن آف ان داتا اور سیاست شامل ہیں۔

صحافت اسد جعفری کا اصل میدان تھا۔ انھیں ابتدا ہی سے صحافت کا شوق تھا۔ انھوں نے مختلف جرائد اور اخبارات میں کام کیا جن میں ہفتہ وار جرائد روزنامہ حرّیت اور جنگ کے نام سرِفہرست ہیں۔

اسد جعفری فلم انڈسٹری کے فن کاروں کے یار مشہور تھے۔ ان سے سب کی دوستی تھی اور وہ ایک محبّت کرنے والے ہر دل عزیز انسان کے طور پر مشہور تھے۔ اداکار درپن، سنتوش کمار، لالہ سدھیر، سلطان راہی، محمدعلی، ندیم، وحید مراد اور رنگیلا سبھی انھیں پسند کرتے تھے۔

اسد جعفری کو مجلسوں اور محافل میں ان کی شگفتہ باتوں اور ان کے محبّت بھرے برتاؤ کی وجہ سے ہر کوئی چاہتا تھا۔ مرحوم فوٹو گرافی کا شوق بھی رکھتے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں