The news is by your side.

Advertisement

نام ورادیب، دانش ور اور ڈراما نویس اشفاق احمد کی برسی

آج اردو اور پنجابی زبانوں کے نام ور ادیب، دانش ور، افسانہ نگار اور ڈراما نویس اشفاق احمد کی برسی ہے۔ 22 اگست 1925 کو مکتسر ضلع فیروز پور میں پیدا ہونے والے اشفاق احمد 7 ستمبر 2004 کو ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔ وہ لاہور کے قبرستان میں‌ آسودہ خاک ہیں۔

دیال سنگھ کالج اور اورینٹل کالج لاہور میں تدریس کے فرائض انجام دینے کے ساتھ اشفاق احمد نے تخلیقی سفر بھی جاری رکھا۔ انھوں نے ’’داستان گو‘‘ اور ’’لیل و نہار‘‘ جیسے ادبی رسائل کی ادارت کی اور کئی برس اردو سائنس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔

ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لیے ان کے پروگرام یادگار ثابت ہوئے۔ اشفاق احمد کو ایک صوفی، حکیم و دانا کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ان کے اخلاقی لیکچرز اور علمی و ادبی انداز میں‌ بیان کردہ واقعات اور قصّوں‌ پر مشتمل مضامین کے مجموعہ کو بہت مقبولیت ملی۔ اس کے علاوہ اشفاق احمد کا افسانوں پر مشتمل مجموعہ “ایک محبت سو افسانے” بھی بہت زیادہ پسند کیا گیا۔ اسی طرح توتا کہانی ان کی ایک مشہور تخلیق ہے۔

ریڈیو پر اشفاق احمد نے صدا کاری کے ساتھ ایک یادگار ڈرامے “تلقین شاہ” کا اسکرپٹ بھی لکھا جب کہ پاکستان ٹیلی وژن سے ان کے متعدد ڈراما سیریل نشر ہوئے جنھیں‌ بہت پزیرائی ملی۔ اشفاق احمد کے مضامین، ریڈیو اور ٹیلی ویژن ڈراموں کو پاکستان بھر میں‌ بڑی تعداد میں قارئین اور ناظرین نے پڑھا، دیکھا اور انھیں سراہا۔

اشفاق احمد کو حکومت نے صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی، ستارۂ امتیاز اور ہلالِ امتیاز عطا کیے۔ ان کی فکرانگیز تحریر سے ایک پارہ پیش ہے۔

اشفاق احمد کہتے تھے میرے پاس ایک بلّی تھی، اس کو جب بھی بھوک لگتی تھی میرے پاﺅں چاٹ لیتی اور میں اسے کھانا دے دیا کرتا تھا۔ ایک دن میں نے سوچا یہ بلّی مجھ سے بہتر ہے۔ اس کو پکا یقین ہے کہ اپنے مالک کے پاس سے اس کی ہر طلب پوری ہو گی، لیکن انسان کو ایسا یقین نہیں۔ انسان ہر فکر اپنے ذمے لے لیتا ہے۔ ان کاموں میں بھی جو اس کے اختیار میں نہیں ہوتے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں