The news is by your side.

Advertisement

اولیا اور صوفیا کے ارادت مند عزیز میاں قوال کی برسی

6 دسمبر 2000ء کو دنیا بھر میں فنِ‌ قوالی اور اپنے مخصوص انداز میں‌ صوفیانہ کلام گانے کے لیے مشہور عزیز میاں اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔ آج ان کی بیسویں برسی منائی جارہی ہے۔

عزیز میاں کا اصل نام عبدالعزیز تھا۔ کہتے ہیں لفظ میاں ان کا تکیۂ کلام تھا جو بعد میں ان کے نام ہی کا حصّہ بن گیا اور وہ عزیز میاں مشہور ہوئے۔

پاکستان ہی نہیں‌ دنیا بھر میں قوالی کے شیدا غیر مسلم بھی عزیز میاں کے دیوانے ہیں۔ اس کا سبب ان کا منفرد انداز اور حمد و نعت کے ساتھ مختلف صوفیانہ کلام گاتے ہوئے جذب و مستی کا وہ اظہار تھا جو حاضرین اور سامعین کو روحانی سکون اور طمانیت کے احساس سے سرشار کردیتا تھا۔

عزیز میاں کی آواز نہایت بارعب اور انداز دل کش تھا۔ وہ اس فن کے شہنشاہ کہلائے. پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں عزیز میاں کا نام نہایت عزت اور احترام سے لیا جاتا ہے۔

17 اپریل 1942ء کو دہلی میں‌ آنکھ کھولنے والے عزیز میاں نے عربی، فارسی اور اردو میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ مطالعہ کا شوق رکھتے تھے۔ فلسفہ اور صوفی ازم ان کا محبوب موضوع رہا۔

قوالی کے فن اور اس کی باریکیوں کو سمجھنے کے لیے معروف استاد عبدالوحید کی شاگردی اختیار کی۔ حکومت نے انھیں تمغۂ حسنِ کارکردگی سے نوازا تھا۔

‘‘اللہ ہی جانے کون بشر ہے، یا نبی یا نبیﷺ۔’’ جیسا مشہور کلام عزیز میاں کی آواز میں آج بھی نہایت ذوق و شوق سے سنا جاتا ہے۔

انھوں نے کئی حمدیہ اور نعتیہ کلام، منقبت اور مشہور شعرا کی شاعری کو بھی اپنی آواز اور انداز دیا۔

‘‘ نہ کلیم کا تصور، نہ خیالِ طورِ سینا، میری آرزو محمدﷺ، میری جستجو مدینہ’’ وہ نعتیہ کلام ہے جو عزیز میاں کی آواز میں نہایت عقیدت اور محبت سے سنا جاتا ہے۔

مختصر علالت کے بعد 58 سال کی عمر میں وفات پاجانے والے عزیز میاں کی تدفین ان کی وصیت کے مطابق ملتان میں ان کے مرشد کے پہلو میں کی گئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں