The news is by your side.

Advertisement

مشہور مؤرخ بہاءُ الدّین کا تذکرہ جنھوں نے فاتح بیتُ المقدس کی سوانح عمری لکھی

بہاءُ الدّین یوسف ابنِ رفیع ابنِ شداد 12 ویں صدی عیسوی کے ایک فقیہ، عالم اور مؤرخ تھے جن کی علمیت اور مشہور تصنیف عالمِ اسلام کے عظیم حکم راں سلطان صلاح الدّین ایّوبی کی سوانح عمری ہے۔

محققین نے بہاءُ الدّین کا سنِ پیدائش 1145 عیسوی لکھا ہے اور ان کا وطن قدیم عراق کا شہر موصل بتایا ہے تاریخی تذکروں‌ میں آیا ہے کہ بہاءُ الدّین نے موصل میں ہی ابتدائی تعلیم و تربیت مکمل کی اور پھر قرآن و حدیث کا درس لیا۔ اس کے بعد وہ بغداد چلے گئے جو اُس زمانے میں‌ اسلامی تعلیم کا مرکز سمجھا جاتا تھا اور علم و فنون سے وابستہ شخصیات کی قدر افزائی کے لیے مشہور تھا۔

بہاءُ الدّین نے بغداد میں‌ مدرسہ نظامیہ میں مسلم قانون کا مطالعہ کیا اور بعد میں وہیں‌ درس و تدریس سے منسلک ہو گئے۔ 1173ء میں وہ اپنے آبائی شہر موصل لوٹ آئے۔

سلطان صلاح الدّین ایّوبی کے دور میں ابنِ شداد کو حکومت کی جانب سے بڑا مقام اور دربار میں‌ زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔ اسلامی تاریخ کے محقّقین کے مطابق حج کے بعد 1188ء میں وطن واپسی پر بہاءُ الدّین کو سلطان ایّوبی کی جانب سے دربار میں‌ حاضر ہونے کا پیغام دیا گیا جہاں ان کی بڑی تکریم کی گئی۔ صلاح الدّین ایّوبی نے ان کی علمی کاوشوں کی تعریف کی اور بہاءُ الدّین کو مستقل طور فوج کا قاضی مقرر کردیا۔

بہاءُ الدّین کی مشہور تصنیف سلطان صلاح الدّین ایّوبی کی سوانح عمری ہے، جس کا زیادہ تر حصّہ سوانح نگار کے ذاتی مشاہدات پر مبنی ہے۔ عربی زبان میں اس مصنّف نے متعدد مضامین سپردِ‌ قلم کیے تھے۔ تاہم ان کی یہ تصنیف سب سے زیادہ مشہور ہے۔

ان کی متذکرہ بالا کاوش کو عالمِ اسلام کی نہایت معتبر ہستی سلطان صلاح الدّین کی شخصیت پر مستند اور قابلِ ذکر تصنیف کہا جاتا ہے۔ یہ اسلامی تاریخ کی ایک عظیم الشّان فتح کا وہ مستند حوالہ بھی ہے جس میں بیتُ‌ المقدس کے غیرمسلموں‌ کے ساتھ سلطان صلاح الدّین ایّوبی نے حسنِ خلق، درگزر اور بردباری کا مظاہرہ کیا تھا۔

مستند تاریخی تذکروں میں‌ اس مسلمان عالم اور مؤرخ کا یومِ وفات 8 نومبر 1234ء درج ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں