The news is by your side.

Advertisement

ملکہ ڈاویجر: چین کی شاہی تاریخ کا ناقابلِ فراموش کردار

مشہور ہے کہ کسی ساحر نے پیش گوئی تھی کہ جب چین پر کوئی عورت حکم راں ہوگی تو پھر چین میں شاہی خاندان برقرار نہیں رہ سکتا، ملک میں ایک نیا نظام رائج ہوجائے گا جو شاہی کا مخالف ہو گا۔

یہ پیش گوئی حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئی اور ملکہ ڈاویجر شاہی خاندان کی آخری مضبوط کڑی ثابت ہوئی جس کے ٹوٹنے پر چین کی ہزاروں سال کی شاہی بھی ٹوٹ گئی۔ ڈاویجر المعروف ملکہ سی شی کے بارے میں قطعیت سے نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کہاں پیدا ہوئی، لیکن بعض مؤرخین صوبہ جونان یا انہوئی کے کسی مقام کو اس کی جائے پیدائش قرار دیتے ہیں اور سن 1835ء بتاتے ہیں۔ ملکہ نے 15 نومبر 1908ء کو وفات پائی۔

یہ ملکہ اپنی قوّت اور تدبّر میں بے مثل تھی۔ جس ماحول میں اُسے حکم رانی کا موقع ملا، وہ کچھ اِس قدر اضطرابی اور سیماب صفت تھا کہ بڑی سے بڑی شخصیت بھی سکون پیدا کرنے سے قاصر رہتی تھی۔ چین جب ملوکیت اور جمہوریت کی کشمکش میں گرفتار تھا تو ملکہ ہی تھی جو ایک وسیع گروہ کی قیادت کر رہی تھی۔ اُس کی زندگی ایک ایسی داستان ہے جس میں تخت و تاج کی ریشہ دوانیاں، ملوکیت کا عروج و زوال اور ملک کے سیاسی فتنے بپا ہیں، جو ہر شاہی خاندان کا ایک لوازمہ ہے۔

ڈاویجر المعروف ملکہ سِی شی کی زندگی بے ربطگی اور افراتفری کے اُس عہد کی آئینہ دار تھی جس میں وہ زندہ تھی۔ اُس کی بے سکون زندگی وطن اور قوم کے اضطراب کی ترجمان رہی۔ چین کی 5 ہزار سالہ تاریخ میں ایک غیر معمولی واقعہ تھا کہ ایک خاتون جس کی حیثیت ایک خواص سے زیادہ نہ تھی، ملک چین کے سیاہ و سپید کی مالک و مختار بن بیٹھی اور اِس جلال سے حکومت کی کہ شہنشاہ، امرا، عوام اور بیرونی باشندے سبھی سہم جاتے تھے۔

ملک کی بے چارگی اور عرصے سے پیدا شدہ زوال نے اس قدر نہ مہلت دی کہ وہ کام یاب حکومت کرسکتی۔ وہ غربت اور نامرادی کے عالم میں پیدا ہوئی تھی لیکن ایک عارضی خوش حال زندگی گزار کر بربادی اور بے کَسی کے عالم میں اس دنیا سے کوچ کرگئی اور اپنے ساتھ ہمیشہ کے لیے چین کا نظامِ ملوکیت بھی لیتی چلی گئی۔ وہ 1861ء سے اپنی موت تک حکم راں رہی۔

چینی تمدّن میں لڑکی کی پیدائش کو نیک بخت اور مبارک تصوّر نہیں کیا جاتا تھا، اِسی لیے سی شی کی کوئی خاص تربیت نہ ہو سکی۔ سی شی کے والد ہیوئی چینگ چین کی شاہی افواج کے کمان دار تھے۔ مانچو شہنشاہوں کا یہ حکم تھا کہ شاہی افواج کی کمان وہی شخص کرسکتا ہے جو نسلاً مانچو ہو۔ اِس لحاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سی شی بھی نسلاً مانچو تھی۔

وہ سِی شی کو نہنی چاؤ کے نام سے پکارا کرتے تھے۔ وہ ابھی کمسن تھی کہ والد کا انتقال ہو گیا۔ اس کی والدہ پیکنگ چلی آئی جہاں وہ ایک رشتے دار کے ہاں مقیم ہوئی۔ اُس رشتہ دار نے سِی شی کی تعلیم و تربیت پر توجہ کی اور جہاں تک بن پڑا اُس کی تربیت کی گئی۔ سی شی نے کنفیوشس کی تعلیمات کو حفظ کیا اور ادبیاتِ عالیہ کا مختصر سا مطالعہ بھی کیا۔ وہ شروع ہی سے ذہین تھی اور بعد میں معزّز اور مہذّب خواتین میں شمار کی جانے لگی۔

جب سی شی نے منزلِ شباب میں قدم رکھا تو عوام اُسے یوہانالا کے نام سے پکارنے لگے۔ یوہا اور نالا شمالی چین کے جو دیوار چین کے اُس پار شمال مشرقی سمت میں واقع ہے، دو مختلف قبیلے تھے۔ اِن دو قبیلوں کو نوراچو نامی ایک فوجی عہدے دار نے متحد کیا اور اِس اتحاد کے بعد نوراچو نے دیوارِ چین کو عبور کر لیا اور چین پر لشکر کشی کی۔ حکم ران شہنشاہ کو شکست دے کر خود چین کا شہنشاہ بن گیا۔ نوراچو اور اُس کے بعد کے حکم ران چنگ یا مانچو کا لقب اختیار کرکے چین پر حکومت کرنے لگے اور یوں تاریخ میں چنگ خاندان مشہور ہوا۔ یوہا نالا اِس خاندان کا قدیم اور ابتدائی نام تھا۔ چناں چہ اِسی نام سے وہ سی شی مشہور ہوئی۔

چینی رسوم کے مطابق ہر شہنشاہ کو کئی خواص رکھنے کی اجازت تھی۔ اِن خواصوں کو شہنشاہ کی والدہ منتخب کیا کرتی تھی۔ چنانچہ جب شہنشاہ شُن فنگ کے لیے خواصوں کا انتخاب ہو رہا تھا تو سِی شی کی والدہ نے اُسے مجبور کیا کہ وہ اِس انتخاب میں شریک ہوکر اپنی قسمت آزمائی کرے۔

سِی شی کے حسین خدوخال اور اُس کا حُسن اِس قابل تھے کہ وہ منتخب کرلی گئی۔ اس کے جمال نے شہنشاہ شُن فنگ کو مسحور کر دیا۔ بیٹے کی پیدائش پر چینی رواج کے مطابق سی شی کو چین کی حقیقی ملکہ تصوّر کر لیا گیا۔

ملکہ ڈاویجر شہنشاہ کی منظورِ نظر ہوچکی تھی اور وہ امورِ سلطنت پر حاوی ہوتی گئی۔ سلطنت کا نظم و نسق، اس کے صلاح و مشورے کے بغیر سَر انجام نہیں پاسکتا تھا۔ چناں چہ کچھ عرصہ بعد شہنشاہ بھی ملکہ کے اِس طرزِ عمل سے بیزار ہو گیا اور جب 1860ء میں بیرونی باشندوں اور چینیوں میں جنگ ہوئی تو سارے اقتدار کی مالک و مختار سِی شی ہی تھی۔ اِس کی بدقسمتی کا آغاز اُس لمحے سے شروع ہوا کہ جب اِس جنگ میں چینیوں کو شکست ہوئی۔

ملکہ ڈاویجر کے مخالفین نے اِس شکست کا سارا الزام اس کے سر تھوپا اور خصوصاً سُوشن نے جو ملکہ کا سخت ترین دشمن تھا، نے شہنشاہ کو مجبور کر دیا کہ وہ خود کو ملکہ سے الگ کرلے اور فوراً پیکنگ سے جنیہول (چین کا ایک علاقہ) چلا جائے تاکہ ملکہ سی شی کو دور رکھا جاسکے۔ شہنشاہ شین فینگ نے ملکہ سے مخالف اختیار کی اور خود جنیہول چلا گیا۔ یہ ملکہ کی ایسی شکست تھی کہ اُس کی طاقت و اقتدار کا شیرازہ برہم ہونے لگا اور یہیں سے اُس کا زوال شروع ہوا۔

چینیوں کی شکست سے ملک میں بیرونی اقتدار دن بدن پھیلتا جا رہا تھا اور عوام کی پریشانیاں مخالفانہ رنگ اختیار کر رہی تھیں۔ اِس بدقسمتی میں مزید اضافہ ہوتا گیا اور 1861ء کو شہنشاہ کا انتقال ہو گیا۔

شہنشاہ کے انتقال کے بعد چین کی سلطنت و تخت کے دو دعوے دار تھے۔ ایک پانچ سالہ شہزادہ کوانگ سُو جو سِی شی کے بطن سے پیدا ہوا تھا اور دوسرا شہزادہ یائی تھا جسے خود شہنشاہ نے نام زد کیا تھا۔ تخت و تاج کے حصول کے لیے دونوں میں کشمکش اور جنگ ہوئی۔ ملکہ سِی شی نے اپنے پرانے چہیتے دوست جُنگ لُو کی مدد سے شہزادہ یائی کو شکست دی اور خود کمسن شہزادے وانگ سُو کی نائبُ السّلطنت کی حیثیت سے تخت نشین ہو گئی۔

اِن اندرونی تنازعات کے زمانے میں بیرونی باشندوں نے اپنے مفادات کو مستحکم کرنا شروع کیا۔ اُس وقت چین میں دو سیاسی جماعتیں تھیں، ایک قدامت پسند جماعت تھی جس میں شاہی خاندان کے افراد، امرا اور کنفیوشس کے پیروکار شامل تھے اور یہ جماعت ملکہ سی شی کو اپنا قائد سمجھتی تھی۔ دوسری بڑی جماعت اصلاح پسندوں کی تھی جس میں چین کے تمام ترقی پسند عناصر شریک تھے اور اِس جماعت کا اثر جنوبی چین میں پھیلا ہوا تھا۔ اصلاح پسندوں نے شہنشاہ کو اپنے زیرِ اثر کر لیا اور شہنشاہ خود چاہتا تھا کہ ملکہ سے چھٹکارا پاسکے۔ شہنشاہ نے چین میں اصلاحات کا نفاذ کر دیا اور اِس کوشش میں لگا رہا کہ ملکہ کے حاشیہ برداروں کو چُن چُن کر قتل کر دیا جائے۔ شہنشاہ کی پہلی نظر ملکہ سی شی کے منظورِ نظر جُنگ لُو پر پڑی، لیکن اس کی خبر ملکہ کو ہوگئی اور وہ یوں بپھری کہ اصلاح پسندوں اور شہنشاہ پر لشکرکشی کردی۔

اِس تصادم میں کو شہنشاہ قید کر لیا گیا اور اصلاح پسندوں کو شکست ہوئی۔ چین میں ملکہ ڈاویجر یعنی سِی شی کی نگرانی میں دوبارہ قدامت پسندوں کا دور شروع ہو گیا۔ کچھ دِنوں تک اِس بحران میں سکون تو رہا مگر بہت جلد ہی یہ دور ختم ہو گیا۔

1900ء میں جب چینی عوام نے بیرونی باشندوں کے خلاف صف آرائی شروع کی تو اولاً ملکہ نے عوام کا ساتھ دینے سے اِنکار کر دیا مگر اسے ایک جعلی دستاویز دکھائی گئی جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ بیرونی باشندے ملکہ کو تخت سے معزول کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اِس نئی مصیبت کے خوف سے سہم کر عوام کے ساتھ مل گئی۔ اُس نے شاہی افواج کو حکم دیا کہ وہ بیرونی دشمن باشندوں پر حملہ کریں۔ یہ دشمن طاقتیں دراصل مغربی ممالک کے اتحاد پر مبنی تھا اور برطانیہ، فرانس، امریکا، اطالیہ، جرمنی، روس اور جاپان نے متحد ہوکر چینیوں کو شکست دی۔ یہ تصادم تاریخ چین میں بغاوتِ باکسر کے نام سے مشہور ہے۔

یہ دراصل چینیوں کی جنگِ آزادی کی شروعات تھی جس پر بغاوت کا لیبل لگا دیا گیا۔ اس ہنگامے کی ناکامی مانچو خاندان اور ملکہ کی ناکامی تھی۔ بغاوت کے بعد ملکہ نے کوشش کی کہ بیمار ملک میں پھر جان ڈالی جائے مگر عوام اس کے لیے تیّآر نہ تھے اور انھیں ملکہ کی اصلاحات میں اپنے مسائل کا حل نہیں نظر آتا تھا۔ ان کے شعور میں انقلاب رچ بس گیا تھا۔ یوں ان کا اتحاد جمہوری نظامِ حکومت کی طرف پھر گیا۔ اِن مخالف قوّتوں کے باعث ملکہ کا رہا سہا زور اور اقتدار دَم توڑنے لگا۔ خود ملکہ بھی زندگی کی آخری منزل پر تھی۔ اس کی وفات کے تین برس بعد رہی سہی بادشاہت نے بھی دَم توڑ دیا۔

(میر عابد علی خان کی کتاب مشاہیرِ چین سے اقتباسات)

Comments

یہ بھی پڑھیں