The news is by your side.

Advertisement

برصغیر کی عظیم ڈراما نویس فاطمہ ثریا بجیا کی برسی

10 فروری 2016ء کو تہذیب و روایت کی روشن مثال، اردو ڈرامے کی آبرو، ہر دل عزیز فاطمہ ثریا بجیا اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگئی تھیں۔ آج ان کی پانچویں برسی ہے۔

فاطمہ ثریا بجیا کا تعلق ایک تعلیم یافتہ اور علمی و ادبی گھرانے سے تھا۔ وہ یکم ستمبر 1930ء کو حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئی تھیں اور 1948ء میں ان کا خاندان ہجرت کرکے کراچی آبسا تھا۔ ان کا پورا گھرانہ علم و ادب اور فنونِ لطیفہ کے مختلف شعبوں سے وابستہ ہے۔ انور مقصود، زہرہ نگاہ اور زبیدہ طارق (زبیدہ آپا) سے کون واقف نہیں۔ بجیا اسی گھرانے کے دس بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں۔ وہ کبھی اسکول نہیں‌ گئیں اور باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں‌ کی، لیکن اردو زبان و ادب کو کہانی اور ڈراما نگاری کے ذریعے فاطمہ ثریا بجیا نے مشرقی تہذیب و اقدار کے حوالے سے عدیمُ النّظیر اور لازوال تخلیقات سے مالا مال کیا۔

بجیا نے پاکستان ٹیلی ویژن کے ناظرین کو مشترکہ خاندانی نظام کی افادیت، رشتوں ناتوں کی بہار، پیار و محبت اور آپس میں اتحاد و اتفاق سے رہنے کی اہمیت اور اس کے فوائد سے یوں آشنا کیا کہ آج بھی ان کے تحریر کردہ ڈرامے بلاامتیازِ جنس و طبقہ شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

فاطمہ ثریا بجیا کے شہرہ آفاق اور مقبول ترین ڈراموں میں ’شمع‘،’افشاں‘،’عروسہ‘ اور ’زینت‘ شامل جیسے ڈرامے شامل ہیں۔ بجیا نے اپنی فنّی مہارت سے اے آر خاتون اور زبیدہ خاتون کے ناولوں سے ماخوذ ڈرامے لکھے جنھیں بہت پسند کیا گیا۔ ان کے ڈراموں کا جوہر تہذیب و تمدن کا درس تھا۔ 60ء اور70ء کی دہائی اور اس کے بعد بجیا کے تحریر کردہ ڈراموں میں ’اساوری‘،’گھر ایک نگر‘، ’آگہی‘، ’انا‘، ’کرنیں‘،’بابر‘،’تصویرِ کائنات‘،’سسّی پنوں‘، ’انار کلی‘ اور بچوں کے پروگرام بھی شامل ہیں۔

ان کی سوانحِ عمری ’’برصغیر کی عظیم ڈرامہ نویس فاطمہ ثریا بجیا کی کہانی‘‘ کے عنوان سے 2012ء میں شائع ہوئی۔

حکومت پاکستان نے 1997ء میں ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں تمغۂ حسنِ کارکردگی اور 2012ء میں ’’ہلالِ امتیاز‘‘ سے نوازا گیا۔ بجیا نے کئی قومی اور بین الاقوامی اعزازات اپنے نام کیے جن میں جاپان کا شاہی ایوارڈ بھی شامل ہے۔

کینسر کے موذی مرض کے باعث 86 سال کی عمر میں بجیا ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہو گئی تھیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں