The news is by your side.

Advertisement

لیجنڈ اداکار آغا طالش کی برسی

آج پاکستان کی فلمی صنعت کے نام ور اداکار آغا طالش کی برسی ہے۔ وہ 19 فروری 1998ء کو وفات پاگئے تھے۔

انھوں نے اپنی شان دار اداکاری کی بدولت پاکستان فلم نگری کا سب سے معتبر نگار ایوارڈ 7 مرتبہ اپنے نام کیا تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعدد طالش نے ریڈیو پشاور سینٹر سے عملی زندگی میں‌ قدم رکھا اور پھر فلم کی طرف آگئے تھے۔

ان کا اصل نام آغا علی عباس قزلباش تھا۔ وہ 10 نومبر 1923ء کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ تقسیم سے قبل انھوں نے بمبئی میں بننے والی ایک فلم میں بھی کام کیا تھا۔

پاکستان میں آغا طالش نے بڑے پردے پر مختلف کردار نبھائے اور شائقین کی توجہ حاصل کی۔ ان کی مشہور فلموں میں نتھ، جھیل کنارے، سات لاکھ، باغی، شہید، سہیلی، فرنگی، زرقا، وطن، نیند، زینت، امرائو جانِ ادا سرفہرست ہیں جو اپنے وقت کی کام یاب فلمیں تھیں۔ انھوں نے اردو زبان میں بننے والی فلموں کے علاوہ پنجابی اور پشتو فلموں میں بھی کام کیا۔

وہ کبھی نواب کے بہروپ میں اسکرین پر نظر آئے تو کہیں‌ ایمان دار اور فرض شناس پولیس افسر، کسی فلم میں‌ انھوں نے ڈاکو کا روپ دھارا تو کہیں‌ ایک مجبور باپ کے رول میں شائقین کے دل جیتے۔ آغا طالش ان فن کاروں‌ میں شامل ہیں جنھیں‌ اداکاری کا جنون تھا اور انھیں‌ جب موقع ملا تو ہر کردار اس خوبی سے نبھایا کہ دیکھنے والے داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔ انھوں‌ نے کئی فلموں‌ میں‌ منفی کردار بھی ادا کیے۔

پاکستان فلم انڈسٹری کا یہ باکمال اداکار لاہور کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں