The news is by your side.

Advertisement

یومِ وفات:‌حمید اختر کا تذکرہ جنھوں نے "آٹو میٹک” قسم کی تنہائی کاٹی

دراز قد اور خوب رُو حمید اختر کی آواز بھی جان دار تھی۔ انھیں اداکاری کا شوق ہوا تو قسمت آزمانے بمبئی کی فلم نگری کا رخ کیا جہاں انھیں کسی طرح ’آزادی کی راہ پر‘ نامی ایک فلم میں سائیڈ ہیرو کا رول بھی مل گیا، لیکن یہ سفر یہیں تمام ہوا اور حمید اختر نے ایک صحافی، ادیب، فلم ساز اور ترقی پسند تحریک کے کارکن کی حیثیت سے نام و مقام بنایا۔

آج حمید اختر کا یومِ وفات ہے۔ 2011ء میں ان کی زندگی کا آخری سال ثابت ہوا۔ انھیں کینسر کا مرض لاحق تھا۔

1924ء میں ضلع لدھیانہ میں پیدا ہونے والے حمید اختر مشہور شاعر ساحر لدھیانوی کے بچپن کے دوست تھے۔ انھیں نوجوانی میں اردو کے ممتاز ادیب اور شاعر ابن انشاء کی رفاقت بھی نصیب ہوئی اور یوں فکروفن اور علم و ادب سے تعلق گہرا ہوتا چلا گیا۔ اسی ذوق و شوق اور ترقی پسند رجحانات نے حمید اختر کو انجمن ترقی پسند مصنفیں سے ناتا جوڑنے پر آمادہ کر لیا۔

جن دنوں وہ بمبئی میں مقیم تھے، وہاں انھیں کرشن چندر، سجاد ظہیر، سبطِ حسن اور ابراہیم جلیس جیسے ترقی پسندوں سے ملنے کا موقع ملا اور بعد میں ان سے گہری شناسائی ہوگئی۔

تقسیمِ ہند کے بعد حمید اختر پاکستان آئے جہاں ان دنوں اشتراکی فکر کے حامل دانش وروں پر کڑا وقت آیا ہوا تھا۔ حمید اختر بھی گرفتار ہوئے اور دو سال کے لیے زنداں میں رہنا پڑا۔

’کال کوٹھڑی‘ حمید اختر کے انہی ایامِ اسیری کی روداد ہے۔ 1970ء میں انھوں نے آئی اے رحمان اور عبداللہ ملک کے ساتھ مل کر روزنامہ ’آزاد‘ جاری کیا جو بائیں بازو کے آزاد خیال گروپ کا ترجمان تھا۔ یہ اخبار بعد میں اپنی پالیسیوں کی وجہ سے مالی مشکلات کے بعد بند ہوگیا۔

حمید اختر نے اپنے ترقی پسند ساتھیوں کے خاکے بھی احوالِ دوستاں کے نام سے لکھے ہیں۔ ان کی اسیری کے دنوں کی ایک یاد ہم یہاں نقل کررہے ہیں۔

” ایک روز میں تنہائی سے تنگ آکر بوکھلا گیا، شام کو ڈپٹی صاحب آئے تو میں نے ان سے کہا، ”جناب عالی! میں اس تنہائی سے پاگل ہو جاﺅں گا۔ میں نے کوئی سنگین جرم نہیں کیا، میرے وارنٹ پر قیدِ تنہائی کی سزا نہیں لکھی۔ مجھے سیفٹی ایکٹ میں نظر بند کرنے کا وارنٹ ہے، قیدِ تنہائی میں ڈالنے کے لیے نہیں لکھا ہوا، اگر مجھے مارنا ہی ہے تو ایک ہی دن مار کر قصہ ختم کر دیجیے۔

ڈپٹی صاحب نے بہت سوچ بچار کے بعد بظاہر ہمدردانہ لہجے میں کہا: ” تمہارے وارنٹ پر تنہائی کی قید نہیں لکھی ہوئی، مگر تمہاری تنہائی آٹو میٹک قسم کی ہے، کیونکہ نظر بندوں کے قانون میں یہ لکھا ہوا ہے کہ انھیں دوسرے قیدیوں سے نہ ملنے دیا جائے، اب کوئی اور سیاسی قیدی آجائے تو اسے تمہارے ساتھ رکھا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ تو اور کچھ نہیں ہو سکتا۔

میں نے کہا: ”خدا کے لیے کسی اور کو گرفتار کرائیے یہ اہلِ ملتان اس قدر مردہ دل کیوں ہو گئے ہیں؟ کوئی صاحبِ دل اس شہر میں ایسا نہیں ہے کہ جو ایک تقریر کر کے گرفتار ہو جائے۔ مولوی مودودی کے کسی چیلے کو ہی پکڑ لائیے، کوئی انسان تو ہو جس سے بات کر سکوں، مگر افسوس کہ نہ ڈپٹی صاحب میری بات مانے اور نہ ملتان شہر نے کوئی ایسا صاحبِ دل پیدا کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں