The news is by your side.

Advertisement

یگانۂ روزگار شخصیت حمیدُالدّین فراہی کا یومِ‌ وفات

حمیدُالدّین فراہی ایک بلند پایہ محقّق و مفسر کی حیثیت سے ہندوستان بھر میں‌ معروف تھے جن کا فلسفۂ نظمِ قرآن و ربطِ آیات بہت مشہور ہے۔

انھیں‌ جامعُ الکمالات، فاضل و یگانہ اور ایسی شخصیت کہا جاتا ہے جس نے دین و ملّت، علم و ادب کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں اور اپنی شرافت و حسنِ اخلاق میں بھی بے مثال ثابت ہوئے۔

فراہی کا مقام و مرتبہ کیا تھا، اس کے لیے سیّد سلیمان ندوی جیسے جیّد عالم اور ادیب کے یہ الفاظ یہاں‌ نقل کرنا بہتر ہے جو ان کی وفات پر لکھے گئے تھے۔ یہ ان کا وہ مکمل تعارف ہے جس سے اس زمانے کا ہر عالم و فاضل اور جیّد شخصیات متفق رہیں۔

’’اس عہد کا ابنِ تیمیہ 11 نومبر 1930ء کو اس دنیا سے رخصت ہو گیا، وہ جس کے فضل و کمال کی مثال آئندہ بظاہر حال عالمِ اسلامی میں پیدا ہونے کی توقع نہیں، جس کی مشرقی و مغربی جامعیت عہدِ حاضر کا معجزہ تھی، عربی کا فاضل یگانہ اور انگریزی کا گریجویٹ، زہد و ورع کی تصویر، فضل و کمال کا مجسمہ، فارسی کا بلبل شیراز، عربی کا سوق عکاظ، ایک شخصیت مفرد، لیکن ایک جہانِ دانش! ایک دنیائے معرفت! ایک کائناتِ علم، ایک گوشہ نشین مجمعِ کمال، ایک بے نوا سلطانِ ہنر، علومِ ادبیہ کا یگانہ، علومِ عربیہ کا خزانہ، علومِ عقلیہ کا ناقد، علومِ دینیہ کا ماہر، علومُ القرآن کا واقفِ اسرار، قرآن پاک کا دانائے رموز، دنیا کی دولت سے بے نیاز، اہلِ دنیا سے مستغنی، انسانوں کے رد و قبول اور عالم کی داد و تحسین سے بے پروا، گوشہ علم کا معتکف اور اپنی دنیا کا آپ بادشاہ۔‘‘

مولانا فراہی متحدہ ہندوستان کے علاقے اعظم گڑھ کے ایک گاؤں پھریہا میں 18 نومبر 1863ء کو پیدا ہوئے۔ ان کے نام سے متعلق مختلف بلکہ متضاد آرا اور روایات ملتی ہیں اور تحریری دستاویز میں حمیدُ الدّین اور عبدالحمید دونوں نام کثرت سے موجود ہیں۔ فراہی مولانا کا نسبتی نام ہے جو ان کی تصانیف پر دیکھا جاسکتا ہے اور آج کہیں ان کا ذکر آتا ہے تو یہی نام لیا جاتا ہے۔

مولانا فراہی نے دینی تعلیم کے علاوہ عربی اور مشرقی علوم سیکھے جس کی تکمیل نجی درس گاہوں میں ہوئی اور بعد میں انگریزی اور مغربی علوم کی تحصیل کی اور سرکاری جامعات میں‌ داخلہ لیا۔

ناظرہ اور حفظِ قرآن سے فارغ ہوکر عام دستور کے موافق پہلے فارسی کی تعلیم لی اور اس قدر ترقّی کرلی کہ شعر کہنے لگے۔ شاعری کا مذاق ان میں فطری تھا۔ اساتذہ کے رنگ میں قصیدے لکھنے لگے۔ مولانا فراہی کی تعلیم وتربیت میں شبلی کا خاصا حصہ ہے۔ درسِ نظامی کی اکثر کتابیں پھوپھی زاد بھائی علامہ شبلی سے پڑھیں اور بعد میں‌ اپنے وقت کے مشہور اساتذہ کے حلقہ دروس سے استفادہ کرتے رہے، لیکن طبیعت ابتدا ہی سے تحقیق پسند واقع ہوئی تھی اور ان کے اس ذوق کو مولانا شبلی کے فیض صحبت نے مزید ابھار دیا تھا، سو اس میدان میں‌ خوب کام کیا۔

اس کے بعد مولانا فراہی نے انگریزی زبان کے مروّجہ مضامین پڑھے۔ فراہی نے پہلے مڈل پاس کیا اور پھر میڑک کا امتحان دیا اور انٹرنس کا امتحان پرائیویٹ طور پر دے کر ایم او کالج علی گڑھ میں داخل ہوئے۔ مولانا فراہی عربی، فارسی اور دینیات میں اس قدر مہارت پیدا کرچکے تھے کہ کالج میں انھیں ان اسباق سے مستثنیٰ کردیا گیا سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں کہ

”اس زمانے میں کالج کے ہر طالب علم کو عربی اور فارسی بھی لازماً پڑھنی پڑھتی تھی مگر سرسید نے ان کے متعلق پروفیسر آرنلڈ کو لکھ بھیجا کہ حمید الدّین عربی اور فارسی کے ایسے فاضل ہیں جیسے آپ کے کالج کے استاد اور پروفیسر ہیں، اس لیے ان کو مشرقی علوم کے پیریڈوں سے مستثنیٰ کردیا جائے، چنانچہ وہ مستثنیٰ کئے گئے۔

مولانا فراہی نے الہٰ آباد یونیورسٹی سے بی اے کا امتحان پاس کیا، مگر چند ناگزیر وجوہات کی بنا پر ایم اے نہ کرسکے۔

مولانا فراہی نے عملی زندگی کا آغاز سندھ مدرسہ کراچی میں بحیثیت معلّم کیا۔ کراچی میں 1897ء سے 1904ء تک دس سالہ قیام میں فراہی کو وہ فرصت میسر آگئی کہ وہ قرآن پر اپنے اس کام کا آغاز کریں جو ایک نئے دور کی نوید بننے والا تھا۔ قرآن کی تفسیر اور علمِ قرآن پر متعدد تصانیف اسی شہر میں‌ ان کے قیام کے دوران کی ہیں۔ بعد میں وہ ایم اے او کالج علی گڑھ، میور سینٹرل کالج الٰہ آباد اور عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد دکن جیسے نمایاں تعلیمی اداروں میں پڑھاتے رہے۔

ان کا بیش تر کام عربی میں تھا جن میں بہت سی کتابوں کا ترجمہ اردو میں ہوچکا ہے۔ ان میں سب سے مشہور ’’مجموعہ تفاسیر فراہی‘‘، ’’اقسامُ القرآن‘ ‘اور ’’ذبیح کون ہے؟‘‘ ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں