حسینہ معین نے پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے لازوال کہانیاں اور وہ کردار تخلیق کیے جن کی مقبولیت آج بھی برقرار ہے۔ آج حسینہ معین کی برسی ہے۔
پاکستان میں صف اوّل کی ڈرامہ نگار شمار کی جانے والی حسینہ معین کے ایک انٹرویو سے یہ پارے ملاحظہ کیجیے جو فیچر رائٹر اور مضمون نگار شائستہ زریں نے اُن سے کیا تھا۔
بلاشبہ حسینہ معین کے ڈراموں کے طفیل صنفِ نازک نے آگے قدم بڑھانا ہی نہیں قدم جمانا بھی سیکھا۔ حسینہ معین کے بعض کرداروں میں مماثلت بھی پائی جاتی ہے، مثلاً نڈر اور بے باک ہیروئن، وہ ہیرو جس کے مزاج میں متانت اور شرارت کی آمیزش ہو، ایک ہونق سا کامیڈین، بے حد شرارتی اور حاضر جواب لڑکی جوعموماً ہیروئن کی سہیلی یا بہن ہوتی ہے، لیکن باوصف اس کے حسینہ معین کے ہر ڈرامے کی کہانی اور کرداروں میں تازگی اور ندرت محسوس ہوتی ہے اور کسی بھی نئے ڈرامے میں اس مماثلت کے باوجود پرانے کردار کی جھلک نظر نہیں آتی۔ اس کی مثال ہیں کرن کہانی کے ڈاکٹر سلیمان اور دھوپ کنارے کے ڈاکٹر احمر۔ انکل عرفی کی بینا اور تنہائیاں کی زارا۔ انکل عرفی کے حسنات بھائی اور تنہائیاں کا قباچہ۔ انکل عرفی کی افشین اور تنہائیاں کی سنیعہ۔ کرن کہانی کا عرفان اور بندش کا خالد۔ انکل عرفی کے انکل عرفی اور بندش کے شعیب انکل۔ پرچھائیاں اور دھوپ کنارے کے بابا۔ ان تمام کرداروں میں محسوس کیا جانے والا نمایاں فرق ہی دراصل حسینہ معین کے کمالِ فن کی دلیل ہے۔
ان کے ڈراموں کے موضوعات سنجیدہ، حساس لیکن مکالمے شوخ، برجستہ، بامحاورہ گفتگو پر مبنی، چبھتے ہوئے فقرے ہوتے ہیں۔ چونکہ آپ تاریخ کی طالبہ رہ چکی ہیں اس لیے کچھ تاریخی حوالے بھی ملیں گے۔ ان کہی کا جبران کتنا مضبوط کردار تھا۔ حسینہ معین کے قلم کی مشاقی کہ گہری، جاندار اور بڑی سے بڑی بات چھوٹے سے جملے میں اپنے کردار کی زبانی کہلوا دیں گی۔ مثلاً کہانی ختم ہوگئی، ناجیہ بابا چلے گئے۔ مصروفیت بہت اچھی پناہ گاہ ہے۔باہمّت اور بے حس ہونے میں بڑا فرق ہے۔ آپ نے ’’ان کہی“ میں ایک کردار کی زبانی کہلوایا تھا کہ” بعض سمندر دلوں میں بھی ہوتے ہیں جن پر کہانیاں لکھی ہوتی ہیں۔“ اور ان کے مزاح سے بھرپور ڈراموں میں بھی دلوں پر لکھی ہوئی کہانیاں جذبوں کی شدت اور گہرائی کے ساتھ نہ صرف موجود ہوتی ہیں بلکہ اپنا اثر بھی دکھاتی ہیں۔
حسینہ معین نے پاکستانی فلموں نزدیکیاں، کہیں پیار نہ ہو جائے، یہاں سے وہاں تک کے مکالمے بھی لکھے۔ حسینہ معین نے اپنے ڈراموں کی داد محض ناظرین ہی سے وصول نہیں کی بلکہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے تمغائے حسنِ کارکردگی بھی حاصل کیا۔ امریکہ کی hopkins یونیورسٹی کی جانب سے اپنے ڈرامے آہٹ پر ایوارڈ حاصل کیا اور یہ حسینہ معین کے لیے ہی نہیں ہمارے لیے بھی یہ باعثِ افتخار ہے کہ ورلڈ بک 1992ء میں ان کا نام شامل ہوا۔ حسینہ معین نے نگار اور گریجویٹ ایوارڈ بھی حاصل کیے۔ فنِ ڈرامہ نویسی پر متعدد سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے اعزازات پائے۔ انھوں نے جامعہ کراچی سے تاریخ میں ایم اے کیا تھا۔
ہم نے حسینہ معین سے اُن کے ڈرامہ نگاری کے سفر پر بات کی تو انہوں نے بتایا کہ میری کالج اساتذہ سلمیٰ شان الحق حقی اور بسم اللہ نیاز نے محسوس کرلیا تھا کہ میں لکھنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ میں سیکنڈ ایئر کی طالبہ تھی۔ اُنہوں نے ہی مجھے جشن طلباء (ریڈیو پاکستان کراچی مرکز) کے لیے ڈرامہ لکھنے کو کہا تھا مگر میں نے اسے مشکل کام کہہ کر انکار کر دیا تھا۔ یہ انکار ان کے اصرار کے آگے ٹھہر نہ سکا۔ انہوں نے کہا ”کچھ بھی ہو تم ہی لکھو گی۔“ میں اُن کی بات رد نہ کرسکی۔ کالج میں ہی بیٹھ کر ڈرامہ لکھا جسے پہلا انعام ملا۔ پھر یہ سلسلہ چل نکلا اور اسٹوڈیو نمبر 9 کے لیے میں نے آٹھ، نو ڈرامے لکھے جنھیں بے حد پسند کیا گیا۔ جب کراچی ٹیلی ویژن اسٹیشن بنا تو وہاں کے جنرل منیجر نے میرا ایک ریڈیو ڈرامہ ”بُھول بھلیاں“ لے کر مجھ سے کہا کہ اسے ٹی وی کے لیے لکھ دیں۔ اس طرح ڈرامائی سلسلے ”ارژنگ“ میں میرا پہلا ٹی وی ڈرامہ ”نیا راستہ“ تھا۔ انہوں نے ٹی وی کے لیے کئی ماخوذ ڈرامے لکھے۔ اپنے اوّلین طبع زاد ڈرامے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ٹی وی کے لیے میرا پہلا طبع زاد ڈرامہ ”ہیپی عید مبارک“ تھا۔ یہ کھیل 1971ء کی جنگ کے بعد مجھ سے لکھوایا گیا تھا اور ناظرین کو بے حد پسند آیا جب کہ سچ تو یہ ہے کہ ٹیلی کاسٹ ہوا تو مجھے اس میں بہت سی خامیاں نظر آئیں مگر رائے عامہ یکسر مختلف تھی۔ ٹیلیویژن حکام نے ہیپی عید مبارک کو بہترین ڈرامہ قرار دیتے ہوئے ایک تقریب میں مجھے ایوارڈ بھی دیا۔
انہوں نے اپنے تخلیق کردہ پسندیدہ نسوانی کرداروں اور خواتین کی فلاح اور ترقی میں ٹی وی ڈرامے کے مؤثر کردار سے متعلق کہا کہ ”انکل عرفی“ میں بینا کا، ”سنگسار“ اور ”پرچھائیاں“ میں ساحرہ کے کردار مجھے بہت پسند ہیں۔ میرے تجربہ تو یہی بتاتا ہے کہ خواتین کی خوش حالی اور ان کی ترقی میں ڈرامہ سے بڑی مدد مل سکتی ہے۔ امریکہ کی hopkans یونیورسٹی نے پاپولیشن کے حوالے سے مجھ سے ڈرامہ آہٹ لکھوایا تھا اور ساحرہ کاظمی سے بنوایا تھا۔ میں سمجھتی ہوں کہ خواتین کی صحّت کے حوالے سے یہ ڈرامہ کام یاب رہا تھا۔ پی ٹی وی سے چند سال پیشتر قسط وار ڈرامہ شروع ہوا تھا، ”شاید کہ بہار آجائے“ خواتین کے مسائل پر یہ بھی ایک کام یاب ڈرامہ تھا۔
حسینہ معین کا ڈرامہ دیس پردیس بھی بہت پسند کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تسمینہ شیخ اور ذوالفقار شیخ نے اسکاٹ لینڈ میں مقیم پاکستانیوں کے مسائل کی جانب میری توجہ مبذول کروائی۔ تسمینہ کی خواہش پر میں خود اسکاٹ لینڈ گئی۔ اُن کے مسائل اور مصائب کا اندازہ کیا اور پوری شدّت کے ساتھ محسوس کیا۔ اُن کی حماقتوں پر دکھ بھی ہوا، غصّہ بھی آیا، اور اُن کے جذبات و احساسات کو کہانی کے قالب میں ڈھال لیا۔ اپنے ڈراموں میں عشق و محبّت کے معاملات میں تہذیب اور اپنے نظریۂ محبّت کے بارے میں انہوں نے انٹرویو کے دوران بتایا محبّت بہت عظیم جذبہ ہے جو انسانوں کو عطا ہوا ہے۔ جہاں گھٹیا پن ہو وہ عشق یا محبت نہیں سستی جذباتیت ہے اور میرا یہ نظریہ میرے ڈ راموں میں بھی نمایاں ہے، اس لیے ان معاملات میں تہذیب نظر آتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں ورکنگ ویمن کے مقام اور حقوقِ نسواں سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ دراصل کسی بھی معاشرے میں ورکنگ ویمن کو وہ مقام حاصل نہیں ہے جو مردوں کو حاصل ہے۔ عورت دو وجوہات کی بنا پر ملازمت کرتی ہے، ایک تو اس کی معاشی ضرورت اسے مجبورکرتی ہے، دوسرے وہ تعلیم حاصل کر کے جوکچھ سیکھتی ہے اسے برتنا چاہتی ہے۔ ایک ورکنگ ویمن کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ مرد یہ برداشت ہی نہیں کر سکتا کہ عورت سے گھریلو ذمہ داری میں کہیں کوتاہی ہو جائے، اس اعتبار سے عورت پر دہری ذمہ داری اور بوجھ ہوتا ہے کیون کہ ہمارے مشرقی معاشرے میں مرد گھریلو کام کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں جب کہ مغربی معاشرے میں مرد کسی حد تک عورت کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ مشرق کی ورکنگ ویمن کا یہ سفر بہت مشکل ہوتا ہے۔
ڈرامہ نگار حسینہ معین کا انتقال کراچی میں 2021ء میں ہوا۔ ان کی عمر 79 برس تھی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


