The news is by your side.

Advertisement

تحریکِ پاکستان کے راہ نما اور قائدِ اعظم کے رفیق آئی آئی چندریگر کی برسی

ہندوستان کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے اور تحریکِ‌ پاکستان کے کارکن اور قائدِ اعظم کے رفقا میں اسماعیل ابراہیم چندریگر بھی شامل تھے۔

آج تحریک پاکستان سے تشکیلِ پاکستان تک اہم کردار ادا کرنے والے اسماعیل ابراہیم چندریگر( آئی آئی چندریگر) کی برسی ہے۔ وہ 26 ستمبر 1960ء کو کراچی میں انتقال کرگئے تھے۔

انھیں تقسیمِ ہندوستان سے قبل ہی وزارت کا عہدہ سونپ دیا گیا تھا اور قیام پاکستان کے بعد بھی آپ کو وہی منصب تفویض کیا گیا۔

اسماعیل ابراہیم چندریگر 15 ستمبر 1897ء کو احمد آباد میں پیدا ہوئے۔ اس دور میں احمد آباد، بمبئی ریذیڈنسی میں شامل تھا اور اسے صوبے میں ایک خاص مقام اور اہمیت حاصل تھی۔ ابراہیم اسماعیل چندریگر نے اپنی ابتدائی تعلیم احمد آباد کے اسکول میں حاصل کی اور کالج کی تعلیم کے بعد بمبئی یونیورسٹی میں آگئے۔ اسی یونیورسٹی سے بی اے، ایل ایل بی تک تعلیم حاصل کی۔ قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد آئی آئی چندریگر، احمد آباد واپس آگئے اور پریکٹس شروع کی تھی۔

وکالت اور مختلف مقدمات کی پیروی کے ساتھ انھیں‌احمد آباد میونسپل کارپوریشن کے ممبر کی حیثیت سے شہری مسائل حل کرنے اور عوام کی خدمت کرنے کا موقع ملا۔ مسلمان طلبہ و طالبات کے لیے تعلیمی سہولتوں میں اضافے کا آپ کو بے حد خیال تھا چنانچہ انجمن ہائی اسکول احمد آباد ایجوکیشن سوسائٹی کے سیکریٹری رہے اور دوسری فلاحی انجمنوں میں بھی دل چسپی لیتے تھے۔

مسلم لیگ کے متعدد سالانہ اجلاس بمبئی میں منعقد ہوچکے تھے اور ان اجلاسوں کے حوالے سے آل انڈیا مسلم لیگ کی کارکردگی اس کے مقاصد مسلمانانِ ہند کے سامنے کھل کر آچکے تھے چنانچہ آئی آئی چندریگر نے 1936ء میں باقاعدہ طور پر آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی۔ فروری 1937 میں انھیں آل انڈیا مسلم لیگ کے ٹکٹ پر صوبہ بمبئی کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں ضلع احمد آباد کے دیہی علاقہ کی نشست سے رکن منتخب کیا گیا اور آپ احمد آباد سے بمبئی منتقل ہوگئے۔ آپ اسی حلقے سے دو بار 1946ء میں بھی منتخب ہوئے۔

آئی آئی چندریگر بمبئی اسمبلی میں مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی کے ڈپٹی لیڈر رہے، اس کے علاوہ بمبئی مسلم لیگ کے صدر بھی منتخب ہوئے تھے اور اس منصب پر 1945 تک فائز رہے۔ یہ عہدہ آپ کے لیے بڑا اعزاز تھا کیوں کہ قائد اعظم محمد علی جناح بھی بمبئی مسلم لیگ کی ایک شاخ کے اہم رکن تھے۔ آئی آئی چندریگر آل انڈیا مسلم لیگ کی مجلسِ عاملہ کے رکن بھی رہے۔

1945-46 کے انتخابات کے بعد جب آل انڈیا مسلم لیگ نے عبوری حکومت میں شمولیت کی دعوت کو قبول کرلیا تو آئی آئی چندریگر بھی قائد اعظم کے نامزد وزرا میں سے ایک تھے۔

جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو آئی آئی چندریگر کو وزیر تجارت و صنعت مقرر کیا گیا وہ اس عہدے پر 1948 تک فائز رہے اور افغانستان میں پاکستان کے سفیر بھی رہے۔

پاکستان میں 1957 میں وہ مخلوط حکومت میں ملک کے چھٹے وزیر اعظم بنے مگر جلد ہی مستعفی ہوگئے تھے۔

وہ کراچی میں پی ای سی ایچ سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں