The news is by your side.

Advertisement

طنز و مزاح کے ممتاز شاعر پروفیسر عنایت علی خان کی برسی

معروف شاعر پروفیسر عنایت علی خان کو اردو شاعری میں طنز و مزاح کے حوالے سے موجودہ دور کا اکبر الٰہ آبادی بھی کہا جاتا ہے۔ انھوں نے اپنے کلام میں اخلاقی اور سماجی موضوعات کے ساتھ معاشرتی مسائل کی نشان دہی کی اور لوگوں کو اپنی روایات اور اقدار کی طرف متوجہ کرنے کے لیے شگفتہ طنز کا سہارا لیا۔ انھوں نے طنز و مزاح میں‌ شائستگی اور معیار کو ہمیشہ اہمیت دی اور ہم عصر مزاحیہ شعرا میں‌ ممتاز ہوئے۔

پروفیسر عنایت علی خان 1935ء میں بھارتی ریاست راجستھان کے شہر ٹونک میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد والدین کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آئے اور سندھ کے شہر حیدرآباد میں آباد ہوئے۔ انھوں نے سندھ یونیورسٹی سے ماسٹرز کرنے کے بعد تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور کئی برسوں تک سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ سے بھی منسلک رہے۔

پروفیسر صاحب نے سندھ یونیورسٹی سے پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے 1961ء میں اوّل پوزیشن کے ساتھ اردو ایم اے کا امتحان پاس کیا تھا۔ بعد ازاں بی ایڈ کیا اور 1963ء میں مغربی پاکستان میں سرکاری ملازمت اختیار کی جس کے تحت پہلی پوسٹنگ خیر پور اور پھر حیدر آباد تبادلہ ہو گیا۔

کرکٹ کے کھیل سے عنایت علی خان کو بڑا لگاؤ تھا۔ انھوں نے بعد میں کیڈٹ کالج پٹارو میں ملازمت کی تو وہاں‌ اردو پڑھانے کے ساتھ کرکٹ کی کوچنگ بھی کی۔

پروفیسر عنایت علی خان کو شاعری کا شوق ورثے میں‌ ملا تھا۔ ان کے والد ہدایت علی خان ٹونکی اپنے دور کے مشہور شاعر تھے۔ ان کے نانا، دادا اور چچا جان بھی شاعر تھے۔

پروفیسر عنایت علی خان نے سنجیدہ شاعری بھی کی اور غزل اور نظم میں اپنے فن کی داد وصول کی، مگر ان کی وجہِ شہرت اور شناخت مزاحیہ شاعری ہے۔

ان کے شعری مجموعوں میں ’ازراہِ عنایت، ’عنایتیں کیا کیا‘ اور ’کلیاتِ عنایت‘ شامل ہیں۔ پروفیسر عنایت علی خان نے بچّوں کے لیے کہانیاں بھی لکھیں اور ان کی نظموں کی دو کتابیں بھی شایع ہوئیں۔ پروفیسر صاحب کی مزاحیہ نظم بول میری مچھلی کے متعدد قطعات زباں زدِ عام ہوئے۔ ان کا ایک مشہور شعر دیکھیے۔

حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا
لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر

پروفیسر عنایت علی خان 26 جولائی 2020ء کو وفات پاگئے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں