The news is by your side.

Advertisement

ریڈیو پاکستان اور ٹیلی ویژن کے معروف مزاحیہ اداکار جمشید انصاری کی برسی

آج ٹیلی ویژن، ریڈیو اور اسٹیج کے معروف فن کار جمشید انصاری کی برسی ہے جو ڈراموں میں اپنے مزاحیہ کرداروں کی وجہ سے ملک بھر میں مقبول ہوئے۔ وہ 24 اگست 2005ء کو طویل علالت کے بعد کراچی میں وفات پاگئے تھے۔

جمشید انصاری 31 دسمبر 1942ء کو متحدہ ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کے شہر سہارن پور میں پیدا ہوئے، تقسیمِ ہند کے موقع پر ان کا خاندان ہجرت کرکے کراچی آگیا جہاں جمشید انصاری نے تمام عمر گزار دی۔

انھوں نے تقریباً 200 ٹی وی ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ان کا فنی کیریئر 40 برسوں پر محیط ہے جن میں جمشید انصاری نے ’انکل عرفی‘، ’گھوڑا گھاس کھاتا ہے‘، ’تنہائیاں’، ’اَن کہی‘ جیسے مشہور ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے اور خوب شہرت حاصل کی۔ ’ جھروکے‘، ’دوسری عورت‘، ’زیر زبر پیش‘، ’منزلیں‘، ’بے وفائی‘ بھی ان کے مشہور ڈرامے ہیں۔ یس سر نو سر، برگر فیملی، رات ریت اور ہوا، زہے نصیب، ماہِ نیم شب میں انھوں نے مزاحیہ کردار ادا کیے تھے۔

ایک زمانہ تھا جب ملک بھر میں لوگوں کی تفریح اور معلومات کا واحد اور مقبول ترین ذریعہ ریڈیو ہوا کرتا تھا۔ پاکستان میں ریڈیو پروگرام اور ڈراموں میں کئی آرٹسٹوں نے اپنی آواز اور صدا کاری کے فن کو آزمایا اور خوب شہرت حاصل کی جن میں جمشید انصاری بھی شامل تھے۔

مرحوم نے ریڈیو پر طویل ترین عرصے تک چلنے والے مقبول ترین پروگرام ’حامد میاں کے ہاں‘ میں صفدر کا یادگار کردار ادا کیا تھا۔ اس کھیل میں ان کے ادا کیے ہوئے مکالمے زبان ردِ عام ہوئے۔

پی ٹی وی کے ڈراموں کی بات کی جائے تو ’چکو ہے میرے پاس‘، ’قطعی نہیں!‘، اور ڈرامے میں بات بات پر ان یہ کہنا، ’افشاں تم سمجھ نہیں رہی ہو‘ اور ’زور کس پر ہوا‘ ناظرین کو مسکرانے پر مجبور کر دیتا تھا۔

جمشید انصاری نے مشہور اسٹیج ڈرامے ’بکرا قسطوں پر‘ میں بھی کردار ادا کیا تھا۔

2005ء میں انھیں برین ٹیومر تشخیص ہوا تھا جو بہت زیادہ پھیل چکا تھا اور اسی مرض نے انھیں ہمیشہ کے لیے اپنے پرستاروں سے دور کردیا۔ لیکن ان کی یاد آج بھی دلوں میں زندہ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں