The news is by your side.

Advertisement

یومِ وفات: مشہور انگریزی ناول نگار جین آسٹن کا تذکرہ

انگریزی زبان کی مشہور ناول نگار جین آسٹن نے 18 جولائی 1817ء کو ہمیشہ کے لیے آنکھیں موند لی تھیں۔ 41 برس کی عمر میں وفات پا جانے والی اس تخلیق کار نے چھے ناول لکھے جن میں انسانی فطرت اور رشتوں کی باریکیوں کو خوب صورتی سے سمویا گیا ہے۔

وہ ایک برطانوی پادری کی بیٹی تھیں۔ 1775ء میں‌ جنم لینے والی جین آسٹن کی تخلیقات کو انگریزی کلاسیکی ادب کا حصّہ سمجھا جاتا ہے۔

‘پرائڈ اینڈ پریجوڈیس’ ان کا وہ ناول ہے جسے دنیا بھر میں‌ سراہا گیا اور اردو میں‌ اس کے متعدد تراجم سامنے آئے۔ اسے اردو کے قالب میں ڈھالنے والوں نے فخر اور تعصّب کا نام دیا۔ جین آسٹن کے دیگر ناولوں میں‌ ‘مینز فیلڈ پارک’ اور ‘ایما’ بھی شامل ہیں۔ ایما پہلی بار 1816ء میں شائع ہوا تھا۔ سینس اینڈ سینسیبلٹی یعنی شعور و احساس اور نارتھینجر ایبے وہ ناول تھے جو بہت بعد میں شائع ہوئے۔ اس کا سبب اس دور کی عورتوں کے کام کرنے اور گھروں سے باہر نکلنے کے حوالے سے قدامت پسندانہ سوچ اور تعلیم و ادب کے حوالے سے انھیں اہمیت نہ دیا جانا تھا۔ اس لیے ان کے ناول لکھنے کے کافی عرصہ بعد چھپے اور وہ بھی فرضی نام سے۔

مصنّفہ کے ناول سماج کے کرداروں اور اشراف کے اطراف گھومتے ہیں۔ انھوں‌ نے اپنے ناولوں میں‌ سماج پر طنز اور ہلکے پھلکے انداز میں‌ چوٹ بھی کی۔ مشہور ہے کہ وفات کے کئی برس بعد ان کی کہانیوں کو بہت زیادہ پڑھا اور سراہا گیا اور آج انھیں اس دور کی سماجی اور اخلاقی حالت کو سمجھنے اور بعض روایات کے تناظر میں‌ اہم خیال کیا جاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں