The news is by your side.

Advertisement

علمِ عروض کے موجد، ماہرِ‌ موسیقی و لغت خلیل بن احمد کا یومِ وفات

خلیل بن احمد کو علمِ عروض کا بانی اور موجد کہا جاتا ہے۔ وہ ماہرِ موسیقی و لغت بھی مشہور ہیں۔ آج ان کا یومِ وفات ہے۔

عروض، شاعری سے متعلق ایک ایسا علم ہے جس سے کسی شاعر کے کلام کی موزونیت یا اس کے وزن میں ہونے کو جانچا جاتا ہے۔ یہ علم ایک طرح سے منظوم کلام کی کسوٹی ہے۔ خلیل بن احمد نے اس میں پانچ دائرے اور پندرہ بحریں اختراع کیں جو آج بھی عربی، فارسی اور اردو شاعری میں استعمال ہوتی ہیں۔

انھیں‌ علمِ موسیقی سے بھی کامل واقفیت تھی اور وہ سنسکرت زبان سے آشنا تھے۔ خلیل بن احمد نے اپنی صلاحیتوں اور ان علوم کی مدد سے علمِ عروض وضع کیا تھا۔

تاریخ‌ کے صفحات میں‌ ان کا پورا نام ابو عبد الرحمٰن خلیل ابن احمد الفراھیدی البصری لکھا گیا ہے جن کے یومِ پیدائش اور سنِ وفات میں اختلاف ہے، تاہم زیادہ تر مؤرخین اس بات پر متفق ہیں‌ کہ وہ 718ء میں‌ عمان میں پیدا ہوئے اور یکم نومبر 790ء کو وفات پائی۔

انھیں‌ ماہرِ لغت و موسیقی بھی کہا جاتا ہے۔ محققین کے مطابق وہ عجمی النسل تھے۔ مشہور عربی مؤرخ جارج زیدان نے لکھا کہ ہے وہ ایرانی شہزادوں کی نسل سے تھے اور ان کے جدّ کو شہنشاہِ ایران نے یمن بھیجا تھا۔ ان کی زندگی کا بڑا حصّہ بصرہ میں گزرا اور وفات کے بعد وہیں دفن کیے گئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں