The news is by your side.

Advertisement

عالمی شہرت یافتہ الغوزہ نواز خمیسو خان کی برسی

8 مارچ 1983ء کو پاکستان کے نام وَر الغوزہ نواز خمیسو خان وفات پاگئے تھے۔ وہ مختلف راگ راگنیوں پر عبور رکھتے تھے۔ خمیسو خان ایسے فن کار تھے جنھیں‌ نہ صرف ملک بھر میں بلکہ افریقہ، چین، امریکا، روس اور کئی دیگر ممالک میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کا موقع ملا اور وہ نام ور ہوئے۔

الغوزہ بانسری نما ساز ہے جسے منہ سے بجایا جاتا ہے۔ آج جدید سازوں‌ اور آلاتِ موسیقی کے ساتھ طرزِ گائیکی بھی بدل گیا ہے۔ کئی روایتی ساز اور لوک موسیقی بھی مٹ چکی ہے، اور انہی میں پاک و ہند کا یہ مقبول ساز الغوزہ بھی شامل ہے جس کے بجانے والے بھی اب نہیں‌ رہے۔

خمیسو خان 1923ء میں گوٹھ گاجاموری تعلقہ ٹنڈو محمد خان، ضلع حیدرآباد میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی، اور اپنے زمانے کے مشہور الغوزہ نواز، استاد سید احمد شاہ کی شاگردی اختیار کرکے ان سے موسیقی اور الغوزہ بجانے کی تربیت لینے کے بعد مختلف تقریبات اور شادی بیاہ کی محفلوں میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے لگے، وہ مختلف عوامی مقامات پر الغوزہ بجا کر لوگوں کو متوجہ کرتے رہتے تھے۔ جلد ہی کسی طرح ریڈیو پاکستان تک ان کی رسائی ہو گئی اور اس کے بعد پاکستان ٹیلی وژن پر بھی اپنے فن کے اظہار کا موقع ملنے لگا۔ یوں عالم گیر شہرت حاصل کرنے والے خمیسو خان کو بیرونِ ملک جانے کا بھی موقع ملا۔

حکومتِ پاکستان نے خمیسو خان کے فن کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی اور حکومتِ سندھ نے شاہ لطیف ایوارڈ عطا کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں