The news is by your side.

Advertisement

خواجہ ناظم الدّین: اعلیٰ ترین حکومتی مناصب سے بے سروسامانی تک

خواجہ ناظم الدین تحریکِ پاکستان اور قائدِ اعظم کے مخلص اور قریبی ساتھی تھے جو قیامِ پاکستان کے بعد اعلیٰ حکومتی منصب پر فائز ہوئے اور ایک شریف النفس اور ایمان دار سیاست دان کی حیثیت سے پہچانے گئے۔

قیام پاکستان کے بعد سیاست کے میدان میں اپنی مخالفت، سازشوں اور اختیارات کی رسہ کشی نے انھیں سخت مایوس کیا۔ وہ 1964ء میں آج ہی کے دن حرکتِ قلب بند ہوجانے کی وجہ سے وفات پاگئے تھے۔

پیر علی محمد راشدی اپنی کتاب ”رودادِ چمن“ میں لکھتے ہیں: ”خواجہ ناظم الدین مرحوم نے آڑے وقت میں قربانیاں دی تھیں۔ مسلم لیگ اور تحریکِ پاکستان کی خدمت کی تھی۔ مثلاً جب ہندو اخبارات نے مسلمانوں کا ناطقہ بند کر رکھا تھا تو اسی ناظم الدین نے اپنی جملہ آبائی جائیداد بیچ کر مسلمانوں کا انگریزی اخبار ”اسٹار آف انڈیا“ کلکتہ سے جاری کروایا تھا اور خود قلاش بن کر بیٹھ گیا تھا۔ قربانی کے ایک ایسے مجسمے کو کس طرح بے آبرو کر کے ہمیشہ کے لیے سیاست سے نکال دیا گیا۔

ان کو ایسے وقت خلافِ قانون اور خلافِ شرافت پرائم منسٹری سے ڈسمس کیا گیا، جب وہ ہنوز مسلم لیگ پارٹی کے سربراہ تھے اور پارٹی کا مکمل اعتماد ان کو حاصل تھا۔ ڈسمس ہو جانے کے بعد اس معصوم انسان کے پاس نہ رہنے کا گھر اور نہ معاش کا کوئی ذریعہ رہا۔ عارضی طور پر کراچی کے ایک مخیر شخص نے ان کی خستہ حالی پر رحم کھا کر ان کو سر چھپانے کے لیے ایک چھوٹا سا مکان کرائے پر لے کر دے دیا۔

میں جب سندھ کا ریونیو وزیر بنا تو وہ میرے پاس درخواست لے کر آئے کہ ان کو سندھ میں زمین کا تھوڑا سا غیر آباد ٹکڑا دیا جائے، جہاں وہ مرغ بانی کر کے فاقہ کشی سے بچنے کا بندوبست کر سکیں۔ زمین تو میں نے دے دی مگر مرغی خانہ نہ بن سکا، مجبوراً دربدر خاک بسر وہ اپنا یہ حال لے کر ڈھاکہ پہنچے اور وہاں پاکستان کے دوست اور دشمن قائد اعظم کے اس قریبی ساتھی کا یہ حشر دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گئے۔ آخر ان کا دل ٹوٹ گیا اور وہ اپنی کہانی لے کر بارگاہ ایزدی میں حاضر ہوگئے۔ جس ملک کو بنانے میں ناظم الدین نے نمایاں حصہ لیا تھا۔ اس میں ان کے لیے کوئی جگہ نہ نکل سکی۔“

خواجہ ناظم الدین جدوجہدِ آزادی کے ممتاز راہ نما اور قائد اعظم محمد علی جناح کے بااعتماد ساتھی تھے۔ وہ ڈھاکا میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ اور کیمبرج یونیورسٹی برطانیہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پھر سیاسی میدان میں قدم رکھا۔

وہ ڈھاکا میونسپل کمیٹی کے چیئرمین، مجلس دستور ساز بنگال کے رکن اور متحدہ بنگال کے وزیر تعلیم، وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ کے مناصب پر فائز رہے۔

1937ء میں وہ آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور پھر تاعمر اسی جماعت سے وابستہ رہے۔ قیام پاکستان کے بعد مشرقی پاکستان کے وزیرِ اعلیٰ اور قائد اعظم کی وفات کے بعد گورنر جنرل بنے، لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد انھیں پاکستان کا وزیرِ اعظم بنایا گیا، لیکن 1953ء میں گورنر جنرل غلام محمد نے انھیں غیر آئینی طور پر برطرف کردیا اور وہ دلبرداشتہ ہوکر سیاست سے کنارہ کش ہوگئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں