The news is by your side.

Advertisement

خداداد خان کو وکٹوریہ کراس سے کیوں نوازا گیا تھا؟

برطانیہ کے سب سے بڑے عسکری اعزاز وکٹوریہ کراس کو بہادر سپاہیوں کے سینے پر سجانے کا سلسلہ 1857ء میں شروع ہوا تھا۔

1911ء میں دہلی میں شاہِ برطانیہ جارج پنجم نے اعلان کیا کہ اگر کوئی ہندوستانی سپاہی محاذِ جنگ پر قابلِ رشک کارنامہ انجام دے گا تو وہ بھی اس برطانوی اعزاز کا مستحق سمجھا جائے گا۔ خداداد خان برصغیر کے وہ پہلے سپاہی تھے جنھوں نے وکٹوریہ کراس اپنے سینے پر سجایا۔

پہلی عالمی جنگ میں برصغیر کے طول و عرض سے بھی چوڑے چکلے سینوں والے کڑیل جوان فوج میں بھرتی ہو کر یورپ کے مختلف محاذوں پر روانہ ہوئے تھے اور برطانیہ کی جنگ لڑی تھی۔ یوں تو کئی جوانوں کو محاذ پر پامردی سے دشمن کا مقابلہ کرنے پر عسکری اعزازات سے نوازا گیا تھا، لیکن وکٹوریہ کراس جیسا اعلیٰ ترین عسکری اعزاز پہلی مرتبہ خداداد خان کو دیا گیا۔ ان کا تعلق موضع ڈھب تحصیل چکوال، ضلع جہلم سے تھا۔ بلوچ رجمنٹ کا یہ سپاہی کراچی میں تعینات تھا جسے پہلی عالمی جنگ میں فرانس کے ایک محاذ پر جانے کا حکم ملا۔

24 اگست 1914ء کو وہ اور ان کے ساتھی سپاہی سمندر کے راستے کراچی سے روانہ ہوئے اور ستمبر میں فرانس کی ایک بندرگاہ پر اترے۔ انھیں ہولی بیک کے محاذِ جنگ پر بھیج دیا گیا جہاں خداداد خان نے بہادری کی مثال قائم کی۔

یہ 13 اکتوبر 1914ء کی بات ہے۔ سپاہی خداداد خان کے دستے کا کمان آفیسر دشمن کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوگیا اور مشین گن چلانے والے پانچ سپاہی بھی یکے بعد دیگرے مارے گئے، لیکن زخمی ہوجانے والے خداداد خان نے اپنی مشین گن نہ چھوڑی اور محاذ پر ڈٹے رہے۔ جس مورچے پر خداداد خان موجود تھے، وہاں انھیں جرمنی کی دشمن فوج کا سامنا تھا۔

اس معرکے میں ساتھیوں کا جانی نقصان دیکھنے اور خود بھی زخمی ہوجانے کے باوجود سپاہی خداداد خان اپنے مورچے سے دشمن پر حملہ جاری رکھے ہوئے تھے، یہاں تک کہ انھیں واپس ہونے کا حکم دے دیا گیا اور واپسی پر ان کے کارنامے کے اعتراف میں حکومتِ برطانیہ کی جانب سے 31 اکتوبر 1914ء کو خداداد خان کے لیے سب سے بڑے عسکری اعزاز وکٹوریہ کراس کا اعلان کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی اس سپاہی کو صوبیدار بھی بنا دیا گیا۔

یہ تمغہ ملکہ وکٹوریہ کے حکم پر جاری کیا گیا تھا جسے کریمیا کی جنگ میں روس سے چھینی دو توپوں کی دھات سے تیّار کیا جاتا ہے۔

وکٹوریہ کراس اور صوبیداری کے ساتھ خداداد خان کو ضلع منڈی بہاءُ الدّین کے چک پچیس میں پچاس ایکڑ زمین بھی الاٹ ہوئی اور وہیں ان کا مدفن بھی موجود ہے۔ صوبیدار خداداد خان 8 مارچ 1971ء کو راولپنڈی میں وفات پاگئے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں