The news is by your side.

Advertisement

ممتاز شاعر نقّاد اور مدرّس منظور حسین شور کی برسی

آج اردو اور فارسی کے ممتاز شاعر، نقّاد اور ماہرِ تعلیم منظور حسین شور کا یومِ‌ وفات ہے۔ وہ 8 جولائی 1994ء کو دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔

ان کا خاندانی نام منظور حسین اور تخلّص شور تھا۔ وہ 15 دسمبر 1916ء کو امراوتی (سی۔ پی) ہندوستان میں پید اہوئے۔ میٹرک اور ایم اے کرنے کے بعد قانون کی سند حاصل کی۔ وہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے فارغ التحصیل تھے۔

تعلیمی مراحل طے کرنے بعد ناگپور کے شعبہ ادبیات فارسی اور اردو میں بطور ریڈر ملازم ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان آگئے اور پروفیسر کی حیثیت سے پہلے زمیندار کالج، گجرات پھر اسلامیہ کالج اور گورنمنٹ کالج، لائل پور (فیصل آباد) سے منسلک رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کراچی منتقل ہوگئے جہاں جامعہ کراچی میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔

شور صاحب بنیادی طور پر نظم گو شاعر تھے، لیکن غزل بھی کہا کرتے تھے۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ’’نبضِ دوراں‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ اس کے بعد کے مجموعے بالترتیب ’دیوارِ ابد‘، ’سوادِ نیم تناں‘، ’میرے معبود‘ ، ’صلیبِ انقلاب‘ ، ’ذہن و ضمیر‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے۔ ان کا تمام کلام رفعتِ خیال اور غزل و نظم کی تمام تر نزاکتوں اور لطافتون سے آراستہ ہے۔

شور صاحب نے چار کتابیں ’حشرِ مرتب‘ ، ’انگشتِ نیل‘ ، ’افکار و اعصار‘ ،’اندر کا آدمی‘ مرتّب کیں۔ ان کا ایک شعر ملاحظہ کیجیے۔

چین بھی لینے نہیں دیتے مجھے
میں ابھی بھولا تھا پھر یاد آ گئے

Comments

یہ بھی پڑھیں