The news is by your side.

Advertisement

نوجوانی میں اسلام قبول کرنے والی مریم جمیلہ کے سفرِ زیست پر ایک نظر

عرب معاشرت اور اسلام میں نوعمری ہی میں کشش محسوس کرنے والی مرگریٹ پیگی مارکوس کو اسرائیل کے فلسطین پر قبضے اور وہاں کے مسلمانوں کو ان کے علاقوں سے بے دخل کرنے سے شدید تکلیف پہنچی تھی جب کہ وہ خود ایک یہودی جوڑے کی اولاد تھیں۔

ان کی ہم دردیاں فلسطینیوں کے ساتھ تھیں۔ معصوم و نہتے مسلمانوں کی اپنے آبائی علاقوں اور گھروں سے بے دخلی اور یہودی بستیوں کی تعمیر نے انھیں از حد رنجیدہ و ملول کیا۔

اسی زمانے میں انھیں اسلام سے لگاؤ پیدا ہوا اور ایک روز انھوں نے اسلام قبول کرلیا۔ ان کا نام مریم جمیلہ رکھا گیا۔

انھوں نے 23 مئی 1934ء کو امریکا میں آنکھ کھولی۔ یہودی گھرانے کی اس لڑکی نے جب نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو مشہور نو مسلم مستشرق محمد اسد کی روڈ ٹو مکہ اور اسلام ایٹ کراس روڈز اور محمد مارما ڈیوک پکتھال کا کیا ہوا قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ پڑھنے کو مل گیا اور تب جیسے انھوں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔

1961ء میں انھوں نے لاہور میں مولانا مودودی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔ وہ اسلام کے حوالے سے دو درجن سے زائد کتب کی مصنفہ بھی تھیں۔

انھوں نے 2012ء میں آج ہی کے دن وفات پائی۔

قبولَ اسلام کے بعد مریم جمیلہ کو اپنے گھر اور امریکا میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور وہ امریکی شہریت ترک کرکے پاکستان منتقل ہوگئیں اور یہیں‌ زندگی کا سفر تمام کیا۔

ان کی کتابوں میں از ویسٹرن سویلائزیشن یونیورسل، اسلام ان تھیوری اینڈ پریکٹس، اسلام اینڈ اورینٹل ازم، اسلام اینڈ موڈرن ازم اور اسلام ورسز دی ویسٹ سرفہرست ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں