The news is by your side.

Advertisement

یومِ وفات: سیاست سے ادب تک میاں بشیر احمد کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں

آج تحریکِ پاکستان کے راہ نما، شاعر اور ادیب میاں بشیر احمد کی برسی ہے جو 3 مارچ 1971ء کو وفات پاگئے تھے۔ قائدِ اعظم کے ایک قابلِ اعتماد ساتھی اور مسلم لیگ کے جاں نثار کارکن کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے جن کی سیاست اور ادب کے لیے خدمات نمایاں‌ ہیں۔

میاں بشیر احمد اس خانوادے کے فرد تھے جس کا تذکرہ کیے بغیر پاکستان کے قیام کی تاریخ ادھوری معلوم ہوتی ہے۔ میاں بشیر احمد 29 مارچ 1893ء کو باغبان پورہ، لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جسٹس میاں شاہ دین ہمایوں برصغیر کی ایک معروف علمی اور ادبی شخصیت تھے۔

میاں بشیر احمد نے گورنمنٹ کالج، لاہور سے گریجویشن کرنے کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی سے بی اے آنرز اور بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ وطن واپسی کے بعد کچھ عرصے بیرسٹری کے بعد‌ اسلامیہ کالج لاہور میں اعزازی لیکچرار رہے۔ یہ سلسلہ تیس سال چلا اور 1922ء میں انھوں نے مشہور ادبی جریدہ ہمایوں جاری کیا جو نہایت معیاری تھا۔ ان کا یہ رسالہ 35 برس تک جاری رہا اور اردو زبان و ادب کے لیے اس کے تحت بڑا کام ہوا۔

میاں بشیر احمد ایک جانب پنجاب میں انجمنِ ترقیِ اردو کو منظّم کرتے رہے اور دوسری جانب مسلم لیگ کو مضبوط بناتے رہے۔ میاں بشیر احمد ایک اچھے شاعر بھی تھے۔ 1940ء کے تاریخی اجلاس میں جب قراردادِ پاکستان پیش کی گئی تو اس میں انہی کی مشہور نظم ’’ملّت کا پاسباں ہے محمد علی جناح‘‘ پڑھی گئی جس نے ہندوستان بھر کے مسلمانوں‌ میں ایک جوش اور ولولہ پیدا کردیا تھا۔

1946ء کے عام انتخابات میں میاں‌ بشیر احمد مسلم لیگ کے ٹکٹ پر مجلسِ قانون ساز پنجاب کے رکن منتخب ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد 1949ء میں انہیں ترکی میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا گیا تھا۔ وطن واپسی کے بعد میاں بشیر احمد زبان و ادب کی خدمت کرنے لگے۔ انھوں نے چند کتابیں بھی مرتب کیں جن میں طلسمِ زندگی، کارنامہ اسلام اور مسلمانوں کا ماضی، حال اور مستقبل شامل ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں