The news is by your side.

Advertisement

نام وَر مؤرخ، شاعر اور ادیب میر معصوم شاہ بکھری کا یومِ وفات

14 اپریل کو میر محمد معصوم شاہ بکھری کا یومِ وفات ہے جو سندھ کے مشہور عالم، مؤرخ اور ادیب اور شاعر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔

تاریخ کے اوراق میں ان کی وفات کا سن 1606ء درج ہے، وہ سندھ کے مشہور شہر بکھر میں 1528ء میں‌ پیدا ہوئے تھے۔ وادی سندھ کی اس نابغہ روزگار ہستی کے کار ہائے نمایاں سے نہ صرف سندھ بلکہ برصغیر کی تاریخ مزّین ہوئی۔ میر محمد معصوم شاہ بکھری کو نظام الدین کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے۔

میر معصوم شاہ بکھری اکبرِاعظم کے دربار سے وابستہ رہے جس نے انھیں‌ ایران میں مغلیہ سلطنت کی جانب سے سفیر مقرر کیا تھا۔ اکبر کے دربار میں پذیرائی کے بعد جہانگیر نے آپ کو امینُ الملک کا خطاب عطا کیا۔ میر محمد معصوم شاہ بکھری ایک بلند پایہ مؤرخ اور سندھ کی تاریخ پر مشہور کتاب، تاریخِ معصومی تحریر کی جو نہایت وقیع اور مستند کتاب مانی جاتی ہے۔ شعروادب اور مختلف علوم میں ان کی گہری دل چسپی نے انھیں‌ درباروں اور اپنے وقت کے علما کی مجالس میں بڑی عزّت اور توقیر عطا کی۔ ان کی چند کتب میں ’پنج گنج‘،’طب و مفردات نامی‘، فارسی شاعری کے دو دیوان، رباعیات کا دیوان شامل ہے۔ ان کا یہ علمی اور ادبی سرمایہ سندھ کی ثقافت کا درخشاں باب ہے۔

سندھ کے تاریخی اہمیت کے حامل شہر سکھر میں میر معصوم شاہ بکھری نے ایک مینار تعمیر کروایا تھا جو انہی کے نام سے موسوم ہے۔ اس مینار کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اس کی بلندی ہی نہیں بنیادوں پر اس کا قطر بھی 84 فٹ ہے اور اس کی سیڑھیوں کی تعداد بھی 84 ہے۔ اس مینار کی بنیاد میر محمد شاہ معصوم شاہ بکھری نے رکھی تھی جسے بعد میں ان کے بیٹے نے مکمل کروایا۔

میر محمد معصوم شاہ بکھری کا مزار ان کے تعمیر کردہ مینار سے ملحق قبرستان میں واقع ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں