The news is by your side.

Advertisement

اردو زبان و ادب، نونہالوں اور طلبہ کے محسن اسماعیل میرٹھی کی برسی

مولوی محمد اسماعیل میرٹھی کو بچّوں کا بڑا شاعر اور ادیب مانا جاتا ہے۔ ایک دور تھا جب ان کی نظمیں بچّوں کو ہی نہیں ان کے والدین اور بڑوں کو بھی زبانی یاد تھیں اور چھوٹے بچّوں کو بہلانے اور انھیں خوش کرنے کے لیے بڑے خاص طور پر مائیں لوری کی صورت یہ نظمیں‌ سنایا کرتی تھیں۔

نظم خدا کی تعریف کا یہ شعر دیکھیے:

تعریف اُس خدا کی جس نے جہاں بنایا
کیسی زمیں بنائی کیا آسماں بنایا

اسی طرح ہماری گائے وہ ایک مشہور نظم ہے جس کا مطلع تھا:

رب کا شکر ادا کر بھائی
جس نے ہماری گائے بنائی

آج اردو کے اس نام ور ادیب، شاعر اور مضمون نگار کی برسی ہے۔ وہ یکم نومبر 1917ء کو اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے تھے۔

مولوی اسماعیل میرٹھی نے 12 نومبر 1844ء کو ضلع میرٹھ کے ایک علاقے میں آنکھ کھولی۔ اسی شہر کی نسبت اپنے نام سے میرٹھی جوڑا۔ ابتدائی تعلیم و تربیت والد کی زیرِ نگرانی گھر ہی پر حاصل کی۔ بعد میں اتالیق سے گھر پر مزید تعلیم مکمل کی اور عربی اور فارسی بھی سیکھی۔

دورانِ تعلیم انھوں‌ نے اپنے تخلیقی سفر کا آغاز کیا۔ انھوں نے متحدہ ہندوستان میں بچّوں کی تعلیم و تربیت، ان میں دین و مذہب، اپنی روایات اور ثقافت کا شعور بیدار کرنے کی غرض سے اصلاحی مضامین لکھنا شروع کیے جنھیں‌ بہت پسند کیا گیا۔ بعد میں وہ ایک شاعر اور مصنّف کے طور پر مشہور ہوئے جنھوں نے کئی درسی کتابیں بھی تحریر کیں۔ ان کی زیادہ تر نظمیں، حکایات اور کہانیاں طبع زاد ہیں اور بعض تحریریں فارسی اور انگریزی سے ماخوذ یا ترجمہ ہیں۔

مولوی محمد اسماعیل میرٹھی نے شاعری کے علاوہ تصنیف و تالیف کے حوالے سے بالخصوص تعلیمی مضامین اور تدریس کے موضوعات پر کام کیا۔ ان کے مضامین اور نظمیں‌ آج بھی ہماری درسی کتب میں‌ شامل ہیں اور مختلف رسائل کی زینت بھی بنتی رہتی ہیں۔

ان کے زمانے میں‌ اگرچہ زبان و ادب پر فارسی کا گہرا اثر تھا، لیکن مولوی اسماعیل میرٹھی اور ان کے چند ہم عصر ایسے تھے جنھوں نے اردو کی آب یاری کی اور زبان کو تصنع اور تکلف سے دور رکھتے ہوئے سادہ و عام فہم انداز اپنایا۔ خاص طور پر بچّوں کے لیے تخلیق کردہ ادب میں ان کی ذہنی سطح اور زبان کو سمجھنے کی استعداد اور صلاحیت کو بھی پیشِ نظر رکھا۔ اسماعیل میرٹھی نے ابتدائی جماعتوں کے لیے اردو زبان کا قاعدہ بھی مرتّب کیا تھا۔

مولوی اسمٰعیل میرٹھی نے بچّوں کی نظموں کے علاوہ مقبول ترین صنفِ سُخن غزل میں بھی خوب طبع آزمائی کی جب کہ مثنوی، قصیدہ، رُباعی اور قطعہ نگاری بھی کی، تاہم اُن کی شہرت کا اصل میدان بچّوں کی شاعری ہی رہا۔

اسمٰعیل میرٹھی نے اپنے عزم و حوصلے سے نونہالوں اور طلبہ میں ایسا ادبی ذوق بیدار کیا جس نے آنے والی کئی نسلوں کا نہ صرف نصاب سے بلکہ کتاب سے بھی رشتہ مستحکم تر کر دیا۔ گوپی چند نارنگ نے ان کے بارے میں‌ لکھا ہے کہ ’’وہ صرف عجیب چڑیا، گھوڑا، اونٹ، ملمع کی انگوٹھی، محنت سے راحت اور ہر کام میں کمال اچھا ہے کے، شاعر نہیں تھے۔ انھوں نے ’’مناقشۂ ہوا و آفتاب‘‘، ’’مکالمۂ سیف و قلم‘‘، ’’بادِ مراد‘‘، ’’شفق، ’’تاروں بھری رات‘‘ اور ’’آثار سلف‘‘ جیسی نظمیں بھی لکھیں۔‘‘

Comments

یہ بھی پڑھیں