The news is by your side.

Advertisement

موسیقار لوک گلوکار استاد جمن کا یومِ وفات

محمد جمن پاکستان کے نام وَر لوک فن کار تھے جن کا آج یومِ وفات ہے۔ 24 جنوری 1990ء کو کراچی میں‌ انتقال کرجانے والے اس لوک گلوکار اور موسیقار کا تعلق بلوچستان سے تھا۔

محمد جمن 10 اکتوبر 1935ء کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد زمین دار تھے، مگر شعر و موسیقی سے شغف رکھتے تھے۔ محمد جمن کے نانا بھی مقامی ساز طنبورہ بجانے پر دسترس رکھتے تھے۔ یوں محمد جمن کو ایسا ماحول ملا تھا جس میں فطری طور پر ان کی طبیعت موسیقی پر مائل ہوئی اور بعد میں انھوں نے گلوکاری کے فن میں‌ نام و مقام بنایا۔

ابتدائی زمانے میں‌ محمد جمن نے طنبورہ بجایا اور ساتھ ہی گلوکاری بھی کرنے لگے۔ ان کی آواز اور انداز ان کی وجہِ شہرت بنا اور اس میدان میں ان کے کمال اور فن میں مہارت نے انھیں‌ استاد جمن کہلوایا۔

قیامِ پاکستان کے بعد انھیں ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہونے کا موقع ملا اور یوں ان کی پہچان کا سفر بھی شروع ہوا۔ محمد جمن پہلے کراچی اور پھر حیدرآباد اسٹیشن سے اپنی آواز کا جادو جگانے لگے۔

ریڈیو پاکستان، حیدرآباد سے وابستگی کے دوران انھیں‌ موسیقی ترتیب دینے کا بھی موقع ملا۔ محمد جمن کے شاگردوں میں روبینہ قریشی، زیب النسا، زرینہ بلوچ اور محمد یوسف کے نام سرفہرست ہیں۔

محمد جمن کے گائے ہوئے کئی لوک گیت اور صوفیانہ کلام آج بھی نہایت ذوق و شوق سے سنے جاتے ہیں۔ ان کی آواز میں‌ صوفیانہ کلام سننے والوں پر خاص رقّت اور جذب و وجد کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔

حکومت پاکستان نے 1980ء میں انھیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی عطا کیا تھا۔ محمد جمن کراچی میں آسودۂ خاک ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں