The news is by your side.

Advertisement

ماہرِ اقتصادیات ممتاز حسن کا تذکرہ جو علوم و فنون کی سرپرست رہے

ممتاز حسن ایک محقّق اور مضمون نگار اور نقّاد تھے جن کی وجہِ شہرت تاریخ اور آثارِ قدیمہ میں ان کی دل چسپی اور اس حوالے سے عملی کاوشیں ہیں‌۔ آج ممتاز حسن کی برسی ہے۔

وہ ایک سول سرونٹ اور پاکستان کے ماہرِ اقتصادیات کے طور پر شہرت بھی رکھتے تھے۔ ممتاز حسن آج ہی کے دن 1974ء میں دارِ فانی سے کوچ کرگئے تھے۔

اہم عہدوں پر فائز رہتے ہوئے کئی ذمہ داریاں نبھانے والے ممتاز حسن مطالعہ کے عادی اور علم و ادب کے رسیا تھے۔ انھوں نے چند کتابیں‌ بھی مرتب کیں اور متعدد مصنّفین کو ان کی علمی اور تحقیقی کاوش میں‌ مدد دی۔

ممتاز حسن 6 اگست 1907ء کو گوجرانوالہ کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ممتاز حسن نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی جو سول جج تھے اور علامہ اقبال کے قریبی دوست اور ہم جماعت تھے۔ والد کے تبادلوں کے باعث تعلیم مختلف شہروں میں حاصل کی اور 1927ء میں ایف سی کالج (لاہور) سے بی اے (آنرز) کا امتحان فرسٹ ڈویژن سے پاس کیا۔ انھوں نے ادیب فاضل کے امتحان میں بھی کام یابی حاصل کی۔

ان کا انتخاب انڈین آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس کے لیے ہوگیا تو انھوں نے 1930ء میں انڈر سیکریٹری کی حیثیت سے اپنی ملازمت کا آغاز کردیا۔ جب 1946ء میں انتخابات کے بعد ہندوستان کی حکومت میں نوابزادہ لیاقت علی خان( وزیرِ خزانہ) کے سیکریٹری مقرر ہوئے اور ان کے پاکستان کے وزیر اعظم بننے تک یہ رفاقت قائم رہی۔

1952ء میں ممتاز حسن اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قائم مقام گورنر بنے اور اس کے بعد مختلف اداروں میں کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔

ممتاز حسن کی کوششوں ہی سے نیشنل بینک آف پاکستان کی لائبریری قائم ہوئی جو ملک کی چند اچھی لائبریریوں میں شمار کی جاتی ہے۔ انہی کی کوششوں سے بھنبھور کے کھنڈرات میں وہ مقام بھی دریافت ہوا جس کے بارے میں‌ ماہرین کا کہنا ہے کہ وہاں محمد بن قاسم کی فوج اتری تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں