The news is by your side.

Advertisement

یومِ‌ وفات: ممتاز مفتی نے اپنی کہانیوں کے کرداروں کے باطن کو موضوع بنایا اور قارئین میں مقبول ہوئے

اردو ادب میں اپنے افسانوں اور ناول نگاری کے سبب پہچان بنانے والے ممتاز مفتی کو ان کے سفر ناموں کی بدولت بے پناہ مقبولیت ملی۔ وہ اپنی ڈراما نگاری اور خاکہ نویسی کے لیے بھی مشہور ہیں۔ آج ممتاز مفتی کی برسی ہے۔

ممتاز مفتی اردو افسانے کی روایت میں ایک اہم افسانہ نگار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انھوں نے موضوع، مواد اور تکنیک کے اعتبار سے کئی تجربے کیے۔ ان کے افسانوں کا موضوع گمبھیر نفسیاتی مسائل اور عام زندگی کی مشکلات ہیں۔ ’علی پور کا ایلی‘ ممتاز مفتی کا ایک ضخیم ناول ہے جسے بہت سراہا گیا اور قارئین میں بے حد مقبول ہوا۔

ممتاز مفتی کا اصل نام ممتاز حسین تھا۔ وہ 11 ستمبر 1905ء کو بٹالہ، ضلع گورداس پور میں‌ پیدا ہوئے۔ لاہور سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد درس و تدریس کا پیشہ اختیار کیا۔ ممتاز مفتی کا پہلا افسانہ 1936ء میں شائع ہوا تھا۔

ممتاز مفتی کا ناول ’’الکھ نگری‘‘ بھی قارئین میں بہت مقبول ہوا جب کہ سفر نامے ’’لبیک‘‘ اور ’’ہند یاترا‘‘ کو بہت پزیرائی ملی۔ ان کے خاکوں کے مجموعے پیاز کے چھلکے، اوکھے لوگ، اور اوکھے لوگ کے نام سے شایع ہوئے۔ ممتاز مفتی کے افسانے ان کہی، گہما گہمی، چپ، روغنی پتلے اور سمے کا بندھن کے نام سے کتابی شکل میں منظرِ عام پر آئے۔
انھوں نے انشائیے بھی لکھے اور ’غبارے ‘ کے نام سے ان کے انشائیوں کا مجموعہ بہت پسند کیا گیا۔

27 اکتوبر 1995ء کو ممتاز مفتی نے اس دارِ فانی کو الوداع کہا، وہ اسلام آباد کے ایک قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

حکومتِ پاکستان نے ادبی خدمات کے اعتراف میں ممتاز مفتی کو ستارۂ امتیاز سے نوازا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں