The news is by your side.

Advertisement

افسانہ نگار، نقّاد اور مترجم ممتاز شیریں کا تذکرہ

اردو کی نام ور نقّاد، افسانہ نگار اور مترجم ممتاز شیریں 11 مارچ 1973ء کو اسلام آباد میں وفات پاگئی تھیں۔ آج ان کا یومِ‌ وفات ہے۔

ممتاز شیریں کا پہلا افسانہ انگڑائی ادبی مجلّہ ساقی، دہلی میں 1944ء میں شائع ہوا تھا جس نے ادبی حلقوں میں زبردست پزیرائی حاصل کی اور یوں ان کا تخلیقی سفر جاری رہا اور اس سفر میں‌ ان کے قلم نے کہانیاں اور افسانوں کے ساتھ تنقیدی مضامین اور ترجمہ بھی کیا۔ وہ اردو کے معروف ادبی جریدہ نیا دور کی مدیر بھی تھیں۔

12 ستمبر 1924ء کو ہندو پور (آندھرا پردیش) میں پیدا ہونے والی ممتاز شیریں کے افسانوی مجموعوں میں اپنی نگریا، حدیثِ دیگراں اور میگھ ملہار شامل ہیں جب کہ ان کے تنقیدی مضامین کے مجموعے معیار اور منٹو، نہ نوری نہ ناری کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے۔ انھوں نے جان اسٹین بک کے مشہور ناول دی پرل کا اردو ترجمہ دُرِشہوار کے نام سے کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں