The news is by your side.

Advertisement

عہد ساز ادیب اور مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کی برسی

آج اردو کے صاحبِ طرز ادیب اور معروف مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کی برسی منائی جارہی ہے۔ وہ 20 جون 2018ء کو ہمیشہ کے لیے یہ دنیا چھوڑ گئے تھے۔

مشتاق یوسفی 4 اگست 1923ء کو بھارت کی ریاست راجھستان میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان ہجرت کی اور کراچی میں سکونت اختیار کرلی۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم جے پور سے حاصل کی تھی جب کہ 1945ء گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فلسفے میں ایم اے کیا اور اوّل پوزیشن حاصل کی۔

اردو نثر اور مزاح نگاری میں انھوں نے خود کو صاحبِ‌ طرز ثابت کیا اور اعلیٰ معیار کی تخلیقات قارئین کو دیں۔ ان کے ادبی شہ پاروں میں پہلی کتاب ’’چراغ تلے‘‘ 1941ء میں، دوسری ’’خاکم بدہن‘‘ 1949ء، جب کہ ’’زرگزشت‘‘ 1974ء اور ’’آبِ گم‘‘ 1990ء میں‌ منظرِ عام پر آئی، اس عہد ساز مزاح نگار کی آخری کتاب ’’شامِ شعرِ یاراں‘‘2014ء میں شایع ہوئی تھی۔

مشتاق یوسفی کی کتابیں ان کے وسیع ذخیرۂ الفاظ اور وسیع تر مطالعے کا ثبوت ہیں۔ وہ ایسے مزاح نگار تھے جن کے ہر ہر فقرے کو بڑی توجہ سے پڑھا جاتا ہے اور اس کا لطف اٹھایا جاتا ہے۔ ان کی تحریروں میں‌ گہرائی اور لطیف انداز میں فلسفے کی آمیزش ہے۔ یہاں‌ ہم ان کے مزاحیہ مضامین سے چند جملے آپ کے ذوق کی نذر کررہے ہیں:

• چھٹتی نہیں ہے منھ سے یہ ‘کافی’ لگی ہوئی۔

• مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے۔

• صاحب، میں ماکولات میں معقولات کا دخل جائز نہیں سمجھتا۔

مشتاق احمد یوسفی کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں‌ حکومتِ پاکستان کی جانب سے ستارۂ امتیاز اور ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا تھا۔

وہ طویل عرصے سے علیل تھے اور 95 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں