The news is by your side.

اسلام کے داعی، خیرخواہِ ملّت اور چراغِ علم و ادب نعیم صدیقی کا تذکرہ

نعیم صدیقی کا نام اور مقام و مرتبہ اپنی جگہ، لیکن بدقسمتی سے اس چراغِ علم و ادب، اسلام کے داعی اور ملّت کے خیر خواہ سے بہت کم لوگ واقف ہوں گے۔

اس نادرِ روزگار شخصیت نے 2020ء میں آج ہی کے دن دارِ فانی کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا تھا۔ آج ان کی برسی ہے۔ وہ ایک بہترین شاعر، ادیب، صحافی اور اسلامی اسکالر تھے۔

ان کا اصل نام فضل الرحمٰن نعیم صدیقی تھا جو 1914ء کو ضلع جہلم خانپور (پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد قریبی مدرسے میں داخلہ لے لیا، اور وہاں سے فارسی میں سندِ فضیلت حاصل کی۔

منشی فاضل کا امتحان دینے کے بعد درس و تدریس سے وابستہ ہوگئے لیکن جلد ہی لاہور آگئے۔ وہاں مشہور صحافی مرحوم نصراللہ خاں عزیز کے اخبار ’’مسلمان‘‘ میں ملازمت اختیار کرلی۔

لاہور کا سفر نعیم صدیقی کی زندگی کا ایک اہم اور فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ یہیں سے آپ کی ادبی اور صحافتی زندگی کا بھی آغاز ہوتا ہے، اور یہیں سے وہ دین کے ساتھ سیاسی پلیٹ فارم پر متحرک ہوئے۔ یہاں انھوں نے مولانا مودودیؒ کو پڑھا اور ان کے افکار و خیالات سے بھرپور واقفیت حاصل کی جس کے بعد ان سے ملاقات بھی ہوئی اور یہی ملاقات انھیں عملی سیاست تک لے آئی۔

وہ صحافت کے میدان میں اعلٰی اقدار اور صالح روایات کے زبردست مؤید اور علم بردار تھے۔ انھوں نے بعد میں ترجمان القرآن کے شعبہ ادارت کو اختیار کرلیا اور علمی کام انجام دینے لگے۔

نعیم صدیقی شاعر اور ادیب بھی تھے جن کی تحریریں اردو ادب کا اعلٰی نمونہ ہیں۔ انھوں نے بہت شستہ زبان میں علمی و ادبی موضوعات پر گراں قدر تحریریں یادگار چھوڑی ہیں۔ شعلہ خیال، بارود اور ایمان، خون آہنگ، پھر ایک کارواں لٹا، نغمہ احساس اور نور کی ندیاں کے نام سے ان کے مجموعے شایع ہوئے۔

اس کے علاوہ تحریکی شعور، عورت معرضِ کشمکش میں، اقبال کا شعلہ نوا، معرکہ دین و سیاست، ذہنی زلزلے، معروف و منکر، انوار و آثار، تعلیم کا تہذیبی نظریہ اور چند اہم موضوعات پر کتابچے بھی ان کے علمی و قلمی قدوقامت کا اندازہ کرواتے ہیں۔

وہ ایک بلند پایہ سیرت نگار تھے جن کی سب سے زیادہ مشہور اور مقبول تصنیف ’’محسنِ انسانیت ﷺ‘‘ ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے سیرت نگاری کے رائج اسلوب سے ہٹ کر پیغامِ رسول کو نہایت شان دار انداز سے پیش کیا ہے۔

نعیم صدیقی نے صلے و ستائش کی تمنّا سے بے نیاز ہو کر اپنی علمی و ادبی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا اور نسلِ نو کی فکری راہ نمائی اور تربیت و کردار سازی میں اپنا حصّہ ڈال گئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں