The news is by your side.

Advertisement

ہم سخن تیری خامشی ہے ابھی: ناصر کاظمی کی برسی

2 مارچ 1972ء کو نام وَر شاعر ناصر کاظمی جہانِ فانی سے رخصت ہوگئے تھے۔ آج ان کی برسی منائی جارہی ہے۔ ناصر کاظمی کا شمار اردو کے صاحبِ اسلوب شعرا میں ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنے تخیل کے ساتھ غزل کے اشعار کو وہ لب و لہجہ اور آہنگ بخشا جس کی تازگی آج بھی قائم ہے۔

ناصر کاظمی 8 دسمبر 1925ء کو انبالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ اوراقِ نو، ہمایوں اور خیال کی مجلسِ ادارت میں شامل رہے جب کہ ریڈیو پاکستان سے اپنی وابستگی وفات تک برقرار رکھی۔

برگِ نے اردو کے اس شاعر کا وہ مجموعہ کلام تھا جس نے انھیں‌ اپنے ہم عصروں میں ممتاز کیا اور باذوق حلقے نے انھیں سندِ مقبولیت بخشی۔ یہ 1954ء میں شایع ہونے والا ناصر کاظمی کا پہلا شعری مجموعہ تھا۔

بعد کے برسوں میں‌ ناصر کاظمی کا شمار اردو غزل کے صفِ اوّل کے شعرا میں ہوا۔ ان کے دیگر شعری مجموعے پہلی بارش، نشاطِ خواب اور سُر کی چھایا شایع ہوئے جب کہ نثری مضامین کا مجموعہ خشک چشمے کے کنارے ناصر کاظمی کی وفات کے بعد سامنے آیا۔ ناصر نے اردو کے چند بڑے شعرا کے کلام کو بھی مرتب کیا جن میں میر، نظیر، ولی اور انشا شامل ہیں۔

ناصر کاظمی کا کلام اپنے زمانے کے معروف گلوکاروں نے گایا جن میں غلام علی، عابدہ پروین اور دیگر شامل ہیں۔ ان کی ایک مشہور غزل ہم یہاں آپ کے ذوقِ مطالعہ کی نذر کررہے ہیں۔

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی

کچھ تو نازک مزاج ہیں ہم بھی
اور یہ چوٹ بھی نئی ہے ابھی

شور برپا ہے خانۂ دل میں
کوئی دیوار سی گری ہے ابھی

بھری دنیا میں جی نہیں لگتا
جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی

تُو شریک سخن نہیں ہے تو کیا
ہم سخن تیری خامشی ہے ابھی

یاد کے بے نشاں جزیروں سے
تیری آواز آ رہی ہے ابھی

شہر کی بے چراغ گلیوں میں
زندگی تجھ کو ڈھونڈتی ہے ابھی

سو گئے لوگ اس حویلی کے
ایک کھڑکی مگر کھلی ہے ابھی

وقت اچھا بھی آئے گا ناصرؔ
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی

ناصر کاظمی لاہور میں مومن پورہ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں