The news is by your side.

یومِ وفات: پٹودی کے نواب منصور علی خان ایک آنکھ کی بینائی سے محرومی کے باوجود کرکٹ ٹیم کے کپتان بنے

بھارت کے دارُالحکومت دہلی سے تقریباً 60 کلومیٹر دور انگریزوں کے دور میں پٹودی ریاست کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ یہاں ہندوؤں کی اکثریت تھی اور اس کے نواب مسلمان۔ آج اسی نواب خاندان کے منصور علی پٹودی کی برسی منائی جارہی ہے جن کی وجہِ شہرت کرکٹ ہے۔

پانچ جنوری 1941ء کو بھوپال میں پیدا ہونے والے نواب منصور علی خان پٹودی کو کرکٹ کا کھیل وراثت میں ملا تھا۔ ان کے والد نواب محمد افتخار علی خان پٹودی ٹیسٹ کرکٹ میں انگلینڈ اور ہندوستان دونوں ممالک کی نمائندگی کرچکے تھے۔

منصور علی خان پٹودی 11 سال کے تھے جب ان کے والد پولو کھیلتے ہوئے انتقال کرگئے اور کم عمری میں ریاستی امور کی ذمہ داری منصور علی خان پٹودی کو کاندھوں پر آ گئی۔

ریاست کے اس نواب کی کرکٹ میں دل چسپی بڑھتی رہی اور وہ ایک اچھے بلّے باز اور پھرتیلے فیلڈر ثابت ہوئے۔ 16 سال کی عمر میں انھوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ کی دنیا میں قدم رکھا۔ انہوں نے سسیکس اور اوکسفرڈ یونیورسٹی کی نمائندگی کی۔ وہ پہلے انڈین تھے جو کسی انگلش کاؤنٹی کے کپتان بنائے گئے تھے۔

1961ء میں ان کی عمر محض 20 سال تھی جب وہ ایک کار حادثے میں ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہوگئے مگر دل چسپ بات یہ ہے کہ انھوں نے ٹیسٹ کرکٹ بھی جاری رکھی اور حادثے کے فقط ایک سال بعد ہی انھیں بھارتی کرکٹ ٹیم کی قیادت کرنے کا موقع دیا گیا۔ اس کے بعد وہ کرکٹ ٹیم کے مستقل کپتان بن گئے۔

منصور علی خان پٹودی نے اپنے کیریر میں 46 ٹیسٹ میچ کھیلے جن میں سے 40 میچ ان کی قیادت میں کھیلے گئے۔

1965ء میں ان کی ملاقات اپنے وقت کی مشہور اداکارہ شرمیلا ٹیگور سے ہوئی۔ انھوں نے شادی کا فیصلہ کیا اور مشہور بھارتی شخصیات میں ان کی جوڑی کام یاب ترین خیال کی جاتی ہے۔ بھارتی فلم انڈسٹری کے مشہور اداکار سیف علی خان، سوہا خان انہی کی اولاد ہیں جب کہ ایک بیٹی صبا علی خان جیولری ڈیزائنر ہیں۔

نواب منصور علی خان پٹودی 22 ستمبر 2011ء کو دنیا سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں