The news is by your side.

Advertisement

اردو اور ہندکو زبان کے مزاح گو شاعر نیاز سواتی کی برسی

اردو اور ہندکو کے ممتاز مزاحیہ شاعر اور ادیب نیاز سواتی 13 اگست 1995ء کو ایک ٹریفک حادثے میں زندگی سے محروم ہوگئے تھے۔ آج ان کا یومِ وفات ہے۔ وہ ایک ایسے شاعر تھے جس نے معاشرتی اور اخلاقی کم زوریوں اور برائیوں کی نشان دہی کرتے ہوئے طنز و مزاح کے نشتر چلائے اور شہرت حاصل کی۔

نیاز سواتی ضلع مانسہرہ کے ایک گاؤں میں 29 اپریل 1941ء کو پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام نیاز محمد خان تھا۔ ڈگری کالج ایبٹ آباد سے بی اے کے بعد انھوں نے لا کالج پشاور سے ایل ایل بی کیا اور بعد میں ایبٹ آباد میں بطور سینئر پاپولیشن پلاننگ افسر عملی زندگی کا آغاز کیا۔ شگفتہ مزاجی اور نکتہ رسی و مشاہدہ کی عادت نے انھیں شعروسخن کی دنیا میں بھی ممتاز کیا۔ نیاز سواتی تحریف کے ماہر تھے اور انھوں نے کئی مشہور شعرا کے کلام کی پیروڈیاں لکھیں۔

نیاز سواتی کی طنزیہ و مزاحیہ شاعری میں طنز کا عنصر اس وقت نہایت کاٹ دار اور قابلِ توجہ ہوجاتا ہے جب وہ معاشرے میں مغربی تہذیب کی تقلید اور اپنوں کو غیروں کی پیروی کرتا دیکھتے۔ ان کی حساس طبیعت نے انھیں معاشرتی و اخلاقی برائیوں پر خاموشی اختیار کرنے کے بجائے قلم کی طاقت اور اپنے فنِ شاعری کو آزمانے پر آمادہ کیا اور انھوں نے اس سے خوب کام لیا۔

ان کی دو کتابیں بے باکیاں اور کلّیاتِ نیاز کے نام سے منظرِ عام پر آئیں۔ وہ مانسہرہ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔ ان کا یہ قطعہ ملاحظہ کیجیے

ورنہ مجھے بھی جھوٹا سمجھتے تمام لوگ
صد شکر اپنے حلقے کا ممبر نہیں ہوں میں
دولت کی ریل پیل ہے اب گھر میں اس لیے
کسٹم کا اک کلرک ہوں، ٹیچر نہیں ہوں میں

Comments

یہ بھی پڑھیں