The news is by your side.

Advertisement

یومِ‌ وفات:‌ نظامُ الملک طوسی کو قابل ترین ایشیائی منتظم کہا جاتا ہے

دنیا کے مختلف خطّوں میں اسلامی دورِ حکم رانی اور سلطنتوں کے عروج و زوال اور تاریخ کا ادنیٰ طالبِ علم بھی یہ جانتا ہے کہ ہارون الرّشید کا دور برامکہ کے تذکرے کے بغیر نامکمل ہے اور بالکل اسی طرح سلجوقیوں کا دور نظامُ الملک طوسی کے ذکر کے بغیر ادھورا ہے۔

سلجوقی حکومت میں نظامُ الملک کو اعلیٰ و ارفع مقام حاصل ہے جس نے رفاہی، اصلاحی، تعمیری اور فوجی انتظام سے متعلق اہم ترین کارنامے انجام دیے۔

نظامُ الملک طوسی کا پورا نام ابوعلی حسن ابن علی بن اسحاق تھا جو سلجوق خاندان کے سب سے مشہور بادشاہ ملک شاہ سلجوق کا وزیرِ اعلیٰ اور معتمد خاص تھا۔

آج اسی نظام الملک طوسی کا یومِ وفات ہے۔ اس باصلاحیت وزیر کے بارے میں ممتاز مؤرخ فلپ کے ہیٹی نے کہا کہ ’’یہ اسلام کی سیاسی تاریخ کا ایک ہیرا ہے۔‘‘ ایک اور تاریخ داں امیر علی نے طوسی کو یحییٰ برمکی کے بعد دوسرا قابل ترین ایشیائی منتظم قرار دیا۔

نظام الملک طوسی 10 اپریل 1018ء کو طوس کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوا۔ اس نے سلجوقی حکومت میں لگ بھگ بیس سال مکمل اختیارات کے ساتھ منظّم و مؤثر انداز میں انتظامات سنبھالے اور زندگی کے بیش تر شعبوں خصوصاً درس و تدریس کے حوالے سے لا تعداد خدمات انجام دیں۔ سلجوقی نظم و نسق اور مستحکم حکومت کے پسِ پردہ نظامُ الملک طوسی کی ذہانت، صلاحیت اور مہارت تھی جس نے مملکت کو استحکام اور خوش حال کیا۔ نظام الملک طوسی بغداد کے سفر کے دوران صحرائے سینا سے گزرتے ہوئے 1092ء کو ایک قاتلانہ حملے میں دنیا سے رخصت ہوگیا تھا۔

مؤرخین نے لکھا ہے کہ طوسی تعلیم کا رسیا اور عالموں، فاضلوں، ادبا و شعرا کا قدر دان تھا۔ دربار میں ملک بھر کے مشاہیر، دانش ور اسی کے سبب اکٹھا تھے۔ اسی کے دور میں‌ 1066ء میں اسلامی دنیا کی پہلی عظیم نظامیہ یونی ورسٹی نیشا پور میں قائم کی گئی۔

نظام الملک طوسی نے مشہور شاعر، ماہرِ ارضیات و جغرافیہ عمر خیاّم کے تعاون سے ’’جلالی کیلنڈر‘‘ کا اجرا بھی کیا تھا۔ طوسی نے حکومت کے انتظامی امور، رموزِ مملکت اور سیاست پر اہم ترین کتاب ’’سیاست نامہ‘‘ تحریر کی جو اس کے ذاتی تجربات، علم اور مشاہدات پر مشتمل تھی۔

نظام الملک کا ایک اور بڑا کارنامہ ملک بھر میں خصوصاً سیاسی، انتظامی، حکومتی اور افواج میں جاسوسی و مخبری کے نظام کو رائج کرکے اسے جدید اور عصری خطوط پر آراستہ کرنا ہے۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ طوسی نے ساری عمر خدمتِ اسلام اور فروغِ تعلیم میں گزاری۔

Comments

یہ بھی پڑھیں