The news is by your side.

Advertisement

پاکستانی فن کاروں کی حمایت پر بھارت میں تنقید کا سامنا کرنے والے اوم پوری کا تذکرہ

تھیٹر پر اداکاری کے ساتھ 1970ء کے عشرے میں اوم پوری نے مراٹھی فلم میں کردار نبھا کر اپنے جس فلمی سفر کا آغاز کیا تھا وہ بعد میں‌ ہندی سنیما سے ہالی وڈ تک دراز ہوگیا۔ انھوں نے چند پاکستانی فلموں میں بھی اداکاری کی تھی۔ اوم پوری 2017ء میں آج ہی کے دن چل بسے تھے۔

ہالی وڈ میں انھیں ’سٹی آف جوائے‘، ’وولف‘ اور ’دی گھوسٹ اینڈ دی ڈارک نیس‘ جیسی فلموں میں کام کرتے دیکھا گیا۔ اوم پوری نے ’ایسٹ اِز ایسٹ‘ ، ’دی پیرول آفیسر‘ سمیت متعدد برطانوی فلموں میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ 2014ء میں‌ انھوں نے ’دی ہنڈرڈ فُٹ جرنی‘ میں‌ کام کیا تھا جب کہ مشہورِ‌ زمانہ فلم ’گاندھی‘ میں انھوں نے یادگار پرفارمنس دی تھی۔

اوم پوری 1950ء میں بھارتی ریاست ہریانہ کے شہر انبالہ کے ایک پنجابی خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں‌ نے پُونے کے فلم اینڈ ٹیلی وژن انسٹیٹیوٹ سے گریجویشن کی اور 1973ء میں نیشنل اسکول آف ڈرامہ میں داخلہ لیا۔

ان کا شمار ایسے فن کاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے آرٹ اور کمرشل فلموں کے کئی کرداروں کو یادگار بنا دیا۔ وہ ’آکروش‘، ’ماچس‘، ’گُپت‘، ’دھوپ‘ اور ’بجرنگی بھائی جان‘ جیسی کام یاب ہندی فلموں میں‌ نظر آئے۔ اوم پوری مشکل کردار نبھانے کے لیے تیّار رہتے تھے۔ انھیں بالی وڈ میں ہرفن مولا شخصیت کے طور پر پہچانا جاتا تھا۔

اوم پوری تھیٹر کے اداکار تھے۔ فلم نگری میں آنے سے قبل وہ تھیٹر پر کئی ڈرامے کرچکے تھے۔ اوم پوری کو ان کی بہترین اداکاری پر دو نیشنل فلم ایوارڈز سمیت کئی اعزازات دیے گئے۔ سنجیدہ کرداروں کے ساتھ انھوں نے ہلکے پھلکے تفریحی اور مزاحیہ کردار بھی نہایت خوبی سے نبھائے اور شائقینِ سنیما کے دلوں میں‌ جگہ پائی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں