The news is by your side.

Advertisement

شہرہ آفاق مصوّر اور خطاط صادقین کی برسی

آج شہرہ آفاق مصوّر، خطاط اور نقّاش صادقین کا یومِ وفات ہے، وہ 10 فروری 1987ء کو اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے تھے۔ امروہہ سے تعلق رکھنے والے اس باکمال مصوّر کا پورا نام سید صادقین حسین نقوی تھا جنھیں فن کی دنیا میں‌ صادقین کے نام سے دنیا بھر میں‌ شہرت ملی۔

20 جون 1930ء کو پیدا ہونے والے صادقین 1948ء میں آگرہ یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد ہجرت کرکے پاکستان آگئے تھے۔ یہاں وہ اپنی مصوّری اور خطّاطی کے لیے پہچان بنانے لگے۔ ان کی اصل شہرت کا آغاز میورلز سے ہوا جو انھوں نے کراچی ایرپورٹ، سینٹرل ایکسائز لینڈ اینڈ کسٹمز کلب، سروسز کلب اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی لائبریری میں بنائیں۔

کچھ عرصے کے بعد وہ پیرس چلے گئے جہاں اپنے فن کے نمونے پیش کیے اور ناقدین و شائقین سے داد وصول کی۔ انھوں نے اپنے فن پاروں پر کئی بین الاقوامی اعزازات اپنے نام کیے۔

1969ء میں غالب کی صد سالہ برسی کے موقع پر صادقین نے کلامِ غالب کو مصورانہ کمال کے ساتھ نہایت خوب صورتی سے پیش کیا۔ 1970ء میں صادقین نے سورۂ رحمٰن کی آیات کو مصورانہ خطاطی میں یوں نمایاں‌ کیا کہ دیکھنے والے داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔ یوں انھوں نے اسلامی خطاطی میں ایک نئے طرز کی بنیاد ڈالی۔ لاہور کے عجائب گھر کی چھت بھی صادقین کی لازوال مصوّری کا نمونہ ہے۔

کم عمری ہی سے صادقین کو منظر کشی پسند تھی۔ سو، گھر کی دیواروں نے اس شوق کی مشق میں‌ ان کا خوب ساتھ دیا، وہ ان پر نقش و نگار بناتے رہے اور پھر یہی ان کا فن ٹھیرا۔ صادقین 24 سال کے تھے جب ان کے فن پاروں‌ کی پہلی نمائش ہوئی۔

صادقین کے فن پاروں کی دنیا بھر میں‌ نمائش ہوئی اور ان کی مصوری اور خطاطی کے نمونے گیلریز کا حصّہ بنے۔ 1986ء میں کراچی کے جناح ہال کو اپنی مصوری سے آراستہ کرنے کا آغاز کیا تھا، لیکن ان کی اچانک موت کی وجہ سے یہ کام مکمل نہ ہوسکا۔

صادقین ایک بہت اچھے شاعر بھی تھے اور رباعی ان کی محبوب صنف تھی۔ صادقین نے اپنی شاعری کو بھی مصورانہ انداز میں‌ پیش کیا ہے۔

حکومتِ پاکستان کی جانب سے انھیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی عطا کیا گیا تھا۔ وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں