اتوار, ستمبر 6, 2026
اشتہار

رابندر ناتھ ٹیگور:‌ فکر و فن کی دنیا کا روشن نام

اشتہار

حیرت انگیز

رابندر ناتھ ٹیگور کی ہمہ گیر شخصیت اور تخلیقی جہات کا تذکرہ اس امتیازی شان کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ وہ بنگالی زبان کے بلند پایہ شاعر، مصنف، موسیقار، مصور اور فلسفی بھی تھے۔انھیں 1913ء میں ادب کا نوبیل انعام دیا گیا تھا اور وہ صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ ایشیا کے پہلے تخلیق کار تھے، جن کو اُس وقت یہ اعزاز حاصل ہوا۔ 1915ء میں برطانوی سرکار نے ٹیگور کو ’’سر‘‘ کا خطاب دیا لیکن سانحہ جلیانوالہ باغ کے بعد انھوں نے یہ خطاب رد کر دیا تھا۔ ٹیگور کو ’’انسانیت کا شاعر‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

رابندر ناتھ ٹیگور بنگال میں 1861ء میں پیدا ہوئے تھے اور 7 اگست 1941ء کو اس دنیا سے کوچ کرگئے۔ آج ٹیگور کی یاد منائی جارہی ہے۔ ان کا خاندان کلکتے کی اشرافیہ میں شامل تھا۔ ٹیگور کے دادا اور والد کلکتے کی سماجی زندگی میں فیاض اور مددگار شخصیات سمجھی جاتی تھیں اور عملی طور پر ترقی میں حصہ لینے والوں میں سے ایک تھے۔ ٹیگور نے ابتدائی تعلیم کلکتے میں ہی حاصل کی، جب کہ قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے 1878ء میں انگلستان چلے گئے، لیکن تعلیم مکمل کیے بغیر وطن لوٹے اور اسی دور میں انھوں نے اپنی صلاحیتوں کو پہچانا اور حقیقی معنوں میں خود کو دریافت کیا۔

رابندر ناتھ ٹیگور کا متمول خاندان تہذیب و تمدن کا گہوارہ تھا۔ اس کا ہر فرد وطن پرستی کے جذبے سے سرشار اور زندگی کے نظم و ضبط سے واقف تھا۔ ٹیگور کے سب سے بڑے بھائی دوبیندر ناتھ ایک مشہور فلسفی اور جید عالم تھے جن سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے دور دراز سے علم کے پیاسے آیا کرتے تھے۔ ٹیگور نے اسی ماحول اور اپنے مطالعے کے سبب علم و ادب میں دل چسپی لینا شروع کی اور زندگی کو سمجھنے اور اسے شاعری، مصوری اور موسیقی کی دھنوں کی شکل میں بیان کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ انھوں نے تراجم کا بھی سلسلہ شروع کیا اور عالمی تہذیب و تمدن پر مبنی کتابوں اور مقالات کو بنگالی زبان میں ڈھالا۔ ان کو ایک روحانی گرو کے طور پر بھی تسلیم کیا گیا۔ نوجوانی میں شادی ہوگئی تھی، مگر دو بچوں کی ناگہانی موت اور بیوی کی وفات نے انھیں شدید صدمہ پہنچایا۔ ٹیگور نے اپنی ذات میں گم ہونے کی کوشش کی مگر شاید وہ پوری طرح خود کو فن اور سماج سے دور نہیں رکھ سکتے تھے۔ وہ ایک معلم اور مصلح کی حیثیت سے بھی پہچانے گئے۔

بنگال تقسیم کے بعد بھارت اور بعد میں بنگلہ دیش میں‌ بٹ گیا۔ یہی سرزمین ٹیگور کی تھی اور بنگلہ دیش نے انہی کی شاعری سے اپنا قومی ترانہ مرتب کیا۔ ٹیگور نے امریکا، روس، چین، جاپان اور کئی اہم یورپی ممالک کے دورے کیے اور وہاں لیکچرز دیے۔ کئی مشاہیر اور دنیا بھر میں اعلیٰ عہدے دار اور دوسری شخصیات ٹیگور کے فن سے ہی متاثر نہیں‌ تھیں بلکہ ان میں سے اکثر ان کو روحانی درجے پر فائز شخصیت کے طور پر دیکھتے تھے۔ مشہور زمانہ سائنسدان آئن اسٹائن بھی ان کے احباب میں‌ شامل تھے۔

رابندر ناتھ ٹیگور کے چھے شعری مجموعے شایع ہوئے جن میں ’’گیتانجلی‘‘ پر ان کو نوبیل ادبی انعام دیا گیا تھا۔ ٹیگور نے اسٹیج کے لیے ناٹک لکھے، دو حصوں میں یادداشتیں قلم بند کیں، درجنوں مختصر کہانیاں اور افسانے لکھنے کے علاوہ 13 ناول بھی تحریر کیے۔ ان کی کتابوں کے اردو زبان میں‌ بھی تراجم ہوئے جو شاعری اور ناول پر مشتمل ہیں۔ ٹیگور کی کہانیوں پر فلمیں اور ڈرامے بھی بنائے گئے اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں