The news is by your side.

Advertisement

"مشرق” کا فیچر نگار ریاض بٹالوی

یہ تذکرہ ہے ریاض‌ بٹالوی کا جنھوں‌ نے کوچۂ صحافت میں بڑا نام و مقام بنایا۔ پاکستان کے اس قابل اور باصلاحیت صحافی نے جس صنفِ تحریر میں‌ اپنا زورِ قلم آزمایا وہ فیچر نگاری ہے۔

فیچر رائٹنگ کو صحافت کی ایک اہم، نہایت مضبوط اور توانا قسم شمار کیا جاتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب تخلیقی صحافت اور فیچر نگاروں کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی تھی۔ ریاض بٹالوی بھی اسی میدان میں‌ معروف ہوئے۔

فیچر یا خصوصی رپورٹ کسی بھی صحافی کے علم اور مطالعے کے ساتھ اس کے مشاہدے، تحقیق اور حاصل کردہ معلومات کا وہ خزانہ ہوتی ہے، جسے ضبطِ تحریر میں لاتے ہوئے فیچر رائٹر فنی مہارت اور معیار کو ملحوظ رکھتا ہے۔ وہ اپنی تحریر کو ادبی پیرائے میں قارئین کے سامنے پیش کرتا ہے جو اس کی معلومات میں اضافہ کرتی ہے۔

اردو صحافت میں علم اور تحقیق پر مبنی خصوصی مضامین اور فیچر نگاری میں کئی دہائیوں تک مصروف رہنے والے ریاض بٹالوی کا تعلق متحدہ پنجاب کے ضلع گورداسپور سے تھا۔ وہ قصبہ بٹالہ میں 5 فروری 1937ء کو پیدا ہوئے، ان کا نام ریاضُ الحسن رکھا گیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ ان کا خاندان ہجرت کر کے گجرات آ بسا تھا۔

وہ مشکلات کا زمانہ تھا جس میں انھوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ تاہم جلد روزگار کے لیے تگ و دو شروع کرنا پڑی اور صحافت میں‌ قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا مگر مقامی سطح پر کام یاب نہ ہوسکے۔ گجرات سے نکلنے والے مختلف مقامی اخبارات میں لکھنے اور چھپنے کا سلسلہ شروع ہوا، اور ساتھ ہی وہ افسانے بھی لکھنے لگے۔ بعد میں انھوں نے صحافت کو مستقل پیشہ بنانے کا فیصلہ کیا اور راولپنڈی گئے جہاں نسیم حجازی کے ”کوہستان“ سے وابستہ ہو گئے۔ 1963ء میں لاہور سے ”روزنامہ مشرق“ کا آغاز ہوا تو وہ اس سے وابستہ ہوگئے۔

ایّوب خان کا دور آیا تو انھوں نے فیچر نگاری کا سلسلہ شروع کیا اور اپنے افسانوی اسلوب و مہارت کو آزمایا جسے بہت پذیرائی ملی۔ ان کی تحریریں نمایاں جگہ پاتیں اور جلد ہی اردو صحافت میں فیچر کو ان کی بدولت نئی اڑان مل گئی۔ ریاض بٹالوی اپنے ساتھیوں کی مدد سے موضوع تلاش کرتے اور منظوری کے بعد مواد اکٹھا کرتے، وہ لوگوں سے ملتے، انھیں کریدتے اور شام کو آ کر افسانوی انداز میں‌ اپنی معلومات کو سپردِ قلم کر دیتے۔ ریاض بٹالوی کا فیچر اخبارات کے سنڈے ایڈیشن میں نمایاں‌ طور پر شامل کیا جاتا تھا۔ وہ سلگتے موضوعات پر چشم کشا حقائق بڑی محنت اور مہارت سے اکٹھا کرتے اور رفتہ رفتہ ان کے مخصوص طرزِ تحریر نے انھیں‌ مقبول فیچر نگار بنا دیا۔

ریاض بٹالوی کے فیچر افسانوی زبان و حقائق کے بھرپور عکاس ہوتے تھے۔ ان کے باتصویر فیچر ہر خاص و عام میں پسند کیے جاتے تھے۔ انھوں نے متعدد موضوعات پر لکھا اور کئی مسائل کی نشان دہی کرتے ہوئے حقائق کو اجاگر کیا۔ ریاض بٹالوی کے فیچروں کا ایک سلسلہ ”ایک حقیقت، ایک افسانہ“ کے عنوان سے شروع ہوا جو بہت مقبول ہوا۔

پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ ریاض بٹالوی ٹیلی ویژن ناظرین میں بھی بڑا مقام رکھتے تھے۔ اس دور میں پی ٹی وی کا راج تھا جس پر ان کے فیچروں کی بنیاد پر مقبول ترین سیریل ”ایک حقیقت، ایک افسانہ“ شروع کی گئی۔

ریاض بٹالوی کو ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے 1986ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا تھا۔ انھوں نے مشرق کے علاوہ کئی اخبارات کے لیے کالم اور فیچر لکھے اور وابستگی اختیار کی تاہم مشرق کے ساتھ ان کا تعلق تیس سے زائد سال پر محیط تھا۔

وہ 15 جنوری 2003ء کو اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئے تھے۔ انھیں میکلوڈ روڈ لاہور کے مومن پورہ قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں