اتوار, مئی 10, 2026
اشتہار

علم و دانش میں ممتاز آئی آئی قاضی کا تذکرہ

اشتہار

حیرت انگیز

علم و ادب کی دنیا کی بعض شخصیات ایسی گزری ہیں جنھوں نے اپنی ذہانت اور اپنے جوہر و استعداد سے دوسروں کو ناقابلِ‌ یقین حد تک متاثر کیا مگر ان کی زندگی کا انجام الم ناک ہی نہیں ان کے مداحوں کے لیے حیران کن بھی تھا۔ یہ تذکرہ ہے علّامہ آئی آئی قاضی کا جنھوں نے خود کشی کر لی تھی۔ وسیع دنیاوی علم اور قابلیت کے ساتھ مذہبی تعلیمات اور موضوعات پر بھی ان کی خوب گرفت تھی۔ اسی سبب قاضی صاحب پاکستان میں حلقۂ فکر اور طبقۂ خیال میں یکساں پہچان رکھتے تھے۔

علّامہ آئی آئی قاضی کو متعدد زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ وہ ایک عالم اور بیدار مغز شخصیت مشہور تھے جن کا خطبہ سننے لوگ دور دور سے اکٹھے ہوتے تھے۔ 13 اپریل 1968ء کو یہ خبر ملی کہ قاضی صاحب دنیا میں نہیں رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنی زندگی دریا کے سپرد کردی تھی۔ ان کا اصل نام امداد علی امام علی قاضی تھا۔ وہ آئی آئی قاضی کے نام سے مشہور ہوئے۔ انھوں نے 9 اپریل 1886ء کو حیدر آباد، سندھ کے ایک گھرانے میں آنکھ کھولی۔ لیکن ان کا خاندان ضلع دادو کے ایک گاؤں ’’پٹ‘‘ سے تعلق رکھتا تھا۔ امداد علی امام ذہین تھے اور حافظہ زبردست رکھتے تھے۔ وہ جس ماحول کے پروردہ تھے اس میں تہذیب، تعلیم و تربیت کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا گھرانا ہر لحاظ سے خوش حال اور ثروت مند تھا جس کے باعث قاضی صاحب کو زندگی میں کسی قسم کی کمی اور محرومی دیکھنے کو نہیں ملی۔ ابتدائی تعلیم ایک عالم، اخوند عبدالعزیز سے پائی۔ بچپن ہی میں مختلف زبانیں‌ سیکھنے کا شوق ہوگیا تھا۔ اسی شوق اور لگن کے باعث اردو کے ساتھ عربی، سندھی، فارسی اور انگریزی میں مہارت حاصل کرلی۔ 1904ء میں اسکول کی تعلیم کے دوران ہی سندھی زبان کا اعلیٰ ترین امتحان اور اگلے ہی برس 1905ء میں بمبئی یونیورسٹی سے میٹرک کا امتحان پاس کر لیا۔ اس ذہانت اور قابلیت کو دیکھتے ہوئے اساتذہ نے ان کے والدین کو مشورہ دیا کہ انھیں اعلیٰ تعلیم دلوائیں۔ وہ 1906ء میں اس غرض سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی چلے گئے۔ مگر کچھ ہی عرصہ میں لندن کا رخ کرلیا۔ اس وقت تک ہندوستان میں مسلم لیگ کا قیام عمل میں آچکا تھا۔ برطانیہ میں قیام کے دوران آئی آئی قاضی نے اپنے سیاسی اور سماجی شعور کو بلند کیا اور لندن اسکول آف اکنامکس سے معاشیات اور پھر کِنگز کالج سے نفسیات کی اسناد حاصل کیں۔ اسی دور میں استاد اور مشہور مستشرق تھامس آرنلڈ اور پروفیسر ایل ٹی ہاب ہاؤس کی صحبت میسر آئی اور قاضی صاحب نے ان کی فکر اور علمی کام سے خوب استفادہ کیا۔ بعد ازاں علّامہ صاحب مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے جرمنی چلے گئے، جہاں اُن کی ملاقات ایلساجیر ٹروڈ نامی ایک خاتون سے ہوئی۔ ان سے 1910ء میں شادی ہوگئی اور وہ ایلسا قاضی کے نام سے پہچانی گئیں۔ ایلسا قاضی ایک شاعرہ اور ادیب ہی نہیں فلسفے اور موسیقی سے بھی خاص شغف رکھتی تھیں۔

شادی کے اگلے برس یعنی 1911ء میں آئی آئی قاضی نے لنکنز اِن، لندن سے بار ایٹ لا کی ڈگری حاصل کی اور وہیں قانون کی پریکٹس کرنے لگے۔ اس عرصہ میں انھوں نے مغربی علوم اور ادب پر بھی گہری توجّہ دی۔ اسی برس اچانک اپنی شریکِ حیات کو لے کر حیدرآباد آئے اور دو برس قیام کے بعد پھر برطانیہ کا رخ کیا اور 1918ء تک وہیں رہے۔ 1919ء میں جب وہ اپنے وطن واپس پہنچے تو اُن کے والد کا انتقال ہو گیا۔ اب انھوں نے ہندوستان ہی میں ملازمت کرنے کا فیصلہ کیا۔ برطانوی حکومت نے آئی آئی قاضی کو ٹنڈو محمد خان، سندھ میں سول جج کی ملازمت کی پیش کش کی، جسے انھوں نے قبول کر لیا۔ بعدازاں خیرپور، سندھ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کا عہدہ دے دیا گیا۔ 1921ء میں آئی آئی قاضی کو ’’ریاست خیرپور کا داخلی نمائندہ برائے مشاورتی کاؤنسل‘‘ کا عہدہ بھی پیش کیا گیا، جو انھوں نے قبول کر لیا۔ بعد میں علّامہ آئی آئی قاضی خیرپور کی ملازمت ترک کر کے پبلک پراسیکیوٹر تھرپارکر کے عہدے پر تعینات ہوئے۔ اور پھر اس عہدے سے طویل رخصت لے کر لندن چلے گئے۔ وہاں سے 1931 ء میں اپنا استعفیٰ روانہ کر دیا۔

لندن میں ان کی زندگی میں موڑ یہ آیا کہ انھوں نے وہاں کے مختلف مذہبی اجتماعات، بالخصوص جمعے کے روز خطبات دینے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ وہ تقابلِ مذاہب کے ساتھ اسلام کی تعلیمات پر بھی بڑی گہری نظر رکھتے تھے اور ان کی گفتگو سے سبھی متأثر ہوتے تھے۔ 1936 ء میں سندھ کو بمبئی سے الگ کر دیا گیا، جو ایک بڑا سیاسی اور انتظامی فیصلہ تھا۔ آئی آئی قاضی 1938ء میں کراچی آگئے۔ انھوں نے یہاں جمعے کی نماز پڑھانے اور خطبہ دینے کا سلسلہ شروع کیا، تو اُن کی پُرمغز تقاریر کی شہرت ہر طرف پھیل گئی۔ اُن کا خطبے سننے کے لیے نام وَر شخصیات مذہبی اجتماع میں آنے لگیں اور تحریک پاکستان اور دیگر اہم مذہبی شخصیات سے قاضی صاحب قریب ہوگئے۔

1947ء میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو علّامہ آئی آئی قاضی کو جج بننے کی پیش کش کی گئی، لیکن انھوں نے برطانیہ جانے کا فیصلہ کیا۔ 1951ء میں وہ دوبارہ پاکستان آئے اور سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے طور پر فرائض ادا کرنے لگے۔ بدقسمتی سے ملک میں پہلے مارشل لا کا نفاذ ہوا تو یونیورسٹی انتظامیہ سے علّامہ آئی آئی قاضی سے متعلق بھی کچھ سوالات کیے گئے تھے جس کے بعد قاضی صاحب مستعفی ہوگئے تھے۔

علّامہ آئی آئی قاضی کی تدفین سندھ یونیورسٹی جامشورو کے احاطے میں‌ کی گئی ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں