The news is by your side.

Advertisement

معروف شاعر اور کالم نگار شبنم رومانی کی برسی

اردو کے ممتاز شاعر اور ادیب شبنم رومانی 17 فروری 2009ء کو وفات پاگئے تھے آج ان کی برسی منائی جارہی ہے

30 دسمبر 1928ء کو شاہ جہاں پور میں پیدا ہونے والے شبنم رومانی کا اصل نام مرزا عظیم بیگ چغتائی تھا۔ شبنم ان کا تخلص تھا۔ بریلی کالج سے بی کام کا امتحان پاس کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد ہجرت کرکے کراچی میں‌ سکونت اختیار کی۔ یہاں تخلیقی سفر اور ادبی سرگرمیوں کے ساتھ کالم نگاری کا سلسلہ بھی شروع کیا۔

طویل عرصے تک روزنامہ مشرق میں ہائیڈ پارک کے نام سے ان کے ادبی کالم شایع ہوتے رہے تھے اور اسی نام سے کالموں کا مجموعہ بھی منظرِ عام پر آیا۔ شبنم رومانی نے 1989ء میں ادبی جریدہ اقدار جاری کیا جو ادبی حلقوں میں بے حد مقبول ہوا۔

شبنم رومانی کے شعری مجموعے مثنوی سیرِ کراچی، جزیرہ، حرفِ نسبت، تہمت اور دوسرا ہمالا کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے۔ شبنم رومانی کی ایک مشہور غزل ملاحظہ کیجیے

غزل
میرے پیار کا قصّہ تو ہر بستی میں مشہور ہے چاند
تُو کس دھن میں غلطاں پیچاں کس نشے میں چور ہے چاند

تیری خندہ پیشانی میں کب تک فرق نہ آئے گا
تُو صدیوں سے اہلِ زمیں کی خدمت پر مامور ہے چاند

اہلِ نظر ہنس ہنس کر تجھ کو ماہِ کامل کہتے ہیں!
تیرے دل کا داغ تجھی پر طنز ہے اور بھرپور ہے چاند

تیرے رُخ پر زردی چھائی میں اب تک مایوس نہیں
تیری منزل پاس آ پہنچی میری منزل دور ہے چاند

کوئی نہیں ہم رازِ تمنّا کوئی نہیں دم سازِ سفر
راہِ وفا میں تنہا تنہا چلنے پر مجبور ہے چاند

تیری تابش سے روشن ہیں گُل بھی اور ویرانے بھی
کیا تُو بھی اس ہنستی گاتی دنیا کا مزدور ہے چاند

Comments

یہ بھی پڑھیں