The news is by your side.

Advertisement

شہریار مرزا کا تذکرہ جسے اندھا کرنے کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا گیا

مغل سلطنت میں‌ تخت و تاج کے حصول کے لیے سازشیں، بغاوت اور مخالفین کو قید کے دوران اذیت دے کر موت کے منہ میں‌ دھکیل دینے کے کئی واقعات تاریخ‌ کا حصّہ ہیں۔ بادشاہ، ولی عہد اور شاہزادے ہی نہیں شاہی خاندان کی بااثر شخصیات نے بھی قید و بند کا سامنا کیا اور بدترین سزائیں جھیلیں۔ شہریار مرزا بھی ایسا ہی ایک کردار ہے جس کی زندگی اقتدار کی ہوس کی نذر ہوئی۔

وہ مغل بادشاہ جہانگیر کی پانچویں تھا۔ بادشاہ کا یہ سب سے چھوٹا بیٹا 1605ء میں پیدا ہوا تھا۔ 23 جنوری 1628ء کو شہریار کو اس کے بڑے بھائی شاہجہاں کے حکم پر قتل کر دیا گیا۔ مؤرخین کے مطابق جہانگیر کی موت کے بعد شہریار نے شہنشاہ بننے کی کوشش کی اور اپنی سوتیلی ماں نور جہاں جو اس زمانے میں نہایت شاہی خاندان اور سلطنت میں طاقت وَر تصوّر کی جاتی تھیں اور مرحوم بادشاہ کی چہیتی تھیں، ان کی مدد سے کام یاب بھی ہوگیا۔ تاہم ، وہ صرف "ٹائٹلر” تھا اور اپنے فاتح بھائی شاہ جہاں کے حکم پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

شہریار اپنے دادا شہنشاہ اکبر کی وفات سے چند ماہ قبل پیدا ہوا تھا۔ اس کی والدہ ایک لونڈی تھیں۔ شہزادے کی شادی مہر النساء ہوئی تھی۔ 13 اکتوبر 1625ء کو جہانگیر نے شہریار کو ٹھٹھہ کا گورنر مقرر کیا۔ ان کے وفادار شریفُ الملک نے شہزادہ کے نائب کی حیثیت سے انتظامی امور سنبھالے۔

1627ء کو اپنے والد جہانگیر کی موت کے بعد شہریار نے تخت سنبھال لیا، اسے نور جہاں کی بڑی مدد اور دیگر شاہزادوں کیمکمل حمایت حاصل تھی، لیکن وہ صرف تین ماہ تک سلطنت کا حکم ران رہ سکا۔ وہ اس وقت لاہور میں تھا اور بادشاہ کی وفات کے فوراً بعد ہی شاہی خزانے پر قبضہ کرکے اپنے تخت کو محفوظ بنانے کے لیے دربار کے پرانے اور نئے رئیسوں میں کئی لاکھ کی رقم تقسیم کردی۔ اسی دوران شہزادہ دانیال بھی لاہور فرار ہو کر پہنچا اور شہریار کو اپنی وفاداری کا یقین دلایا۔ لیکن نور جہاں اور شاہی خاندان کی دیگر اہم شخصیات اور پرانے وفاداروں کی بھرپور مدد کے باوجود اسے سخت مزاحمت کے ساتھ لڑائی بھی لڑنا پڑی اور شہریار مرزا کو بدترین حالات میں موت کا سامنا کرنا پڑا۔ کہتے ہیں اسے قید کے دوران اندھا کردیا گیا اور ایک روز موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

ادھر قید کے بعد اس کے بھائی شاہجہاں کو لاہور میں مغل تخت پر بٹھا دیا گیا اور اسی کے حکم پر آج کے دن 1628ء شہریار اور مغل خاندان کے اس کے وفاداروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ شہریار کی موت کے بعد شاہ جہاں نے تیس سال تک سلطنت پر حکم رانی کی، لیکن جس طرح اس نے اقتدار حاصل کرنے کے لیے خون کی ہولی کھیلی تھی اور اپنے ہی بھائی کی جان لی تھی. اسی طرح وہ اورنگ زیب کی قید میں آیا اور چند سال بعد اس کا انتقال ہو گیا۔

ادھر نور جہاں نے زندگی کے باقی ماندہ ایاّم وظیفہ پاکر پورے کیے اور 1645ء میں دارِ فانی سے کوچ کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں